ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 77

ایسا ہی ہے جیسا شق القمر کے متعلق۔خدا خوب جانتا ہے کہ اس حد تک آگ جلاتی ہے اور ان اسباب کے پیدا ہونے سے فرو ہو جاتی ہے۔اگر ایسا مصالحہ ظاہر ہو جاوے یا بتلا دیا جاوے تو فی الفور مان لیں گے۔لیکن ایسی صورت میں ایمان بالغیب اور حسن ظن کا لطف اور خوبی کیا ظاہر ہو وے۔ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ خدا خلق اسباب نہیں کرتا مگر بعض اسباب ایسے ہوتے ہیں کہ نظر آتے ہیں اور بعض اسباب نظر نہیں آتے۔غرض یہ ہے کہ خدا کے افعال گوناگوں ہیں۔خدائے تعالیٰ کی قدرت کبھی درماندہ نہیں ہوتی اور وہ نہیں تھکتا وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيْمٌ (یٰسٓ:۸۰) اَفَعَيِيْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ (قٓ:۱۶) اس کی شان ہے۔اللہ تعالیٰ کی بے انتہا قدرتوں اور افعال کا کیسا ہی صاحب عقل اور علم کیوں نہ ہو اندازہ نہیں کر سکتا بلکہ اس کو اظہار عجز کرنا پڑتا ہے۔مجھے ایک واقعہ یاد ہے۔ڈاکٹر خوب جانتے ہیں۔عبدالکریم نام ایک شخص میرے پاس آیا۔اس کے اندر ایک رسولی تھی جو پاخانہ کی طرف بڑھتی جاتی تھی۔ڈاکٹروں نے اسے کہا کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہے اس کو بندوق مار کر مار دینا چاہیے۔الغرض بہت سے امراض اس قسم کے ہیں جن کی ماہیت ڈاکٹروں کو بخوبی معلوم نہیں ہو سکتی۔مثلاً طاعون یا ہیضہ ایسے امراض ہیں کہ ڈاکٹر کو اگر پلیگ ڈیوٹی پر مقرر کیا جاوے تو اسے خود ہی دست لگ جاتے ہیں۔انسان جہاں تک ممکن ہو علم پڑھے اور فلسفہ کی تحقیقات میں محو ہو جاوے لیکن بالآخر اس کو معلوم ہوگا کہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔حدیث میں آیا ہے کہ جیسے سمندر کے کنارے ایک چڑیا پانی کی چونچ بھرتی ہو اسی طرح خدائے تعالیٰ کے کلام اور فعل کے معارف اور اسرار سے حصہ ملتا ہے۔پھر کیا عاجز انسان! ہاں، نادان فلسفی اسی حیثیت اور شیخی پر خدائے تعالیٰ کے ایک فعل شق القمر پر اعتراض کرتا اور اسے قانون قدرت کے خلاف ٹھہراتا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اعتراض نہ کرو۔نہیں کرو اور ضرور کرو۔شوق سے اور دل کھول کر کرو لیکن دو باتیں زیر نظر رکھ لو۔اول خدا کا خوف، دوسرے بڑے بڑے فلاسفر بھی آخر یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ہم جاہل ہیں۔انتہائے عقل ہمیشہ انتہائے جہل پر ہوتی ہے۔مثلاً ڈاکٹروں سے پوچھو کہ عصبہ مجوفہ کو سب وہ جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں مگر نور کی ماہیت اور اس کا کنہ تو بتلاؤ کہ کیا ہے؟ آواز کی ماہیت پوچھو