ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 76

اتنا معلوم نہیں کہ خدائے تعالیٰ کی قدرتوں اور قوانین کا احاطہ اور اندازہ نہیں کر سکتے۔آہ! ایک وقت تو وہ منہ سے خدا بولتے ہیں لیکن دوسرے وقت چہ جائیکہ ان کے دل، ان کی روح خدائے تعالیٰ کی عظیم الشان اور وراء الو ریٰ قدرتوں کو دیکھ کر سجدہ میں گر پڑے اسے مطلق بھول جاتے ہیں۔اگر خدا کی ہستی اور بساط یہی ہے کہ اس کی قدرتیں اور طاقتیں ہمارے ہی خیالات اور اندازہ تک محدود ہیں تو پھر دعا کی کیا ضرورت رہی؟ لیکن نہیں۔میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور ارادوں کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ایسا انسان جو یہ دعویٰ کرے وہ خدا کا منکر ہے۔لیکن کس قدر واویلا ہے اس نادان پر جو اللہ تعالیٰ کو لا محدود قدرتوں کا مالک سمجھ کر بھی یہ کہے کہ شق القمر کا معجزہ قانون قدرت کے خلاف ہے۔سمجھ لو کہ ایسا آدمی فکر سلیم اور دور اندیش دل سے بہرہ مند نہیں۔خوب یاد رکھو کہ کبھی قانون قدرت پر بھروسہ نہ کر لو۔یعنی کہیں قانون قدرت کی حد نہ ٹھہرا لو کہ بس خدا کی خدائی کا سارا راز یہی ہے۔پھر تو سارا تارو پود کھل گیا۔نہیں۔اس قسم کی دلیری اور جسارت نہ کرنی چاہیے جو انسان کو عبودیت کے درجہ سے گرا دے جس کا نتیجہ ہلاکت ہے۔ایسی بیوقوفی اور حماقت کرنا کہ خدا کی قدرتوں کو محصور اور محدود کرنا کسی مومن سے نہیں ہو سکتی۔امام فخرالدین رازی کا یہ قول بہت درست ہے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کو عقل کے پیمانہ سے اندازہ کرنے کا ارادہ کرے گا وہ بیوقوف ہے۔دیکھو نطفہ سے انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔یہ لفظ کہہ دینے آسان اور بالکل آسان ہیں اور یہ ایک بالکل معمولی سی بات نظر آتی ہے مگر یہ ایک سِرّ اور راز ہے کہ ایک قطرۂ آب سے انسان کو پیدا کرتا ہے اور اس میں اس قسم کے قویٰ رکھ دیتا ہے۔کیا کسی عقل کی طاقت ہے کہ وہ اس کی کیفیت اور کنہ تک پہنچے۔طبیعیوں اور فلاسفروں نے بہتیرا زور مارا لیکن وہ اس کی ماہیت پر اطلاع نہ پا سکے۔اسی طرح ایک ایک ذرّہ خدائے تعالیٰ کے تابع ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ یہ ظاہر نظام بھی اسی طرح رہے اور ایک خارق عادت امر بھی ظاہر ہو جاوے۔عارف لوگ ان کیفیتوں کو خوب دیکھتے اور ان سے حظ اٹھاتے ہیں۔بعض لوگ ایک ادنیٰ ادنیٰ اور معمولی باتوں پر اعتراض کر دیتے ہیں اور شک میں پڑ جاتے ہیں۔مثلاً ابراہیم علیہ السلام کو آگ نے نہیں جلایا۔یہ امر بھی