ملفوظات (جلد 1) — Page 75
محفوظ رکھو اور کہا کہ بالکل بند رکھو ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ (النّور:۳۱) یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے اور یہ طریق اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی رکھتا ہے جس کے ہوتے ہوئے بدکاروں میں نہ ہوگے۔قرآن شریف دلائل و براہین بھی خود ہی بیان کرتا ہے دیکھو! قرآن نے اسی ایک امر کو جو توریت میں بھی اپنے لفظوں اور اپنے مفہوم پر بیان ہوا کیسا شرح و بسط کے ساتھ اور دلائل اور براہین کے ساتھ مؤکد کر کے بیان فرمایا۔یہی تو قرآنی اعجاز ہے کہ وہ اپنے پَیرو کو کسی دوسرے کا محتاج نہیں ہونے دیتا۔دلائل اور براہین بھی خود ہی بیان کر کے اسے مستغنی کر دیتا ہے۔قرآن شریف نے دلائل کے ساتھ احکام کو لکھا ہے اور ہر حکم کے جداگانہ دلائل دئیے ہیں۔غرض یہ دو بڑے فرق ہیں جو توریت اور قرآن میں ہیں۔اول الذکر میں طریق استدلال نہیں۔دعویٰ کی دلیل خود تلاش کرنی پڑتی ہے۔آخر الذکر اپنے دعوے کو ہر قسم کی دلیل سے مدلّل کرتا ہے اور پھر پیش کرتا ہے اور خدا کے احکام کو زبردستی نہیں منواتا بلکہ انسان کے منہ سے سرتسلیم خم کرنے کی صدا نکلواتا ہے۔نہ کسی جبر و اکراہ سے بلکہ اپنے لطیف طریق استدلال سے اور فطری سیادت سے۔توریت کا مخاطب خاص گروہ ہے اور قرآن کے مخاطب کُل لوگ جو قیامت تک پیدا ہوں۔پھر بتلاؤ کہ توریت اور قرآن کیونکر ایک ہو جائیں اور توریت کے ہونے سے کیونکر ضرورت قرآن نہ پڑے۔قرآن جب کہتا ہے کہ تُو زنا نہ کر تو کُل بنی نوع انسان اس کا مفہوم ہوتا ہے لیکن جب یہی لفظ توریت بولتی ہے تو اس کا مخاطب اور مشار الیہ وہی قوم بنی اسرائیل ہے۔اس سے بھی محدود اور غیر فصیح کا پتہ لگ سکتا ہے مگر دور اندیش اور خدا ترس دل ہو تو۔جسمانی اور روحانی خوارق توریت اور قرآن میں یہ بھی ایک فرق عظیم ہے کہ قرآن جسمانی اور روحانی خوارق ہر قسم کے اپنے اندر رکھتا ہے مثلاً شق القمر کا معجزہ جسمانی معجزات کی قسم سے ہے۔قانون قدرت کی تحدید نہیں ہو سکتی بعض نادان شق القمر کے معجزہ پر قانون قدرت کی آڑ میں چھپ کر اعتراض کرتے ہیں لیکن ان کو