ملفوظات (جلد 1) — Page 74
کرتا ہے اور جو بتلاتا ہے کہ اخلاق کے مفاد یہ ہیں اور نہ صرف مفاد اور منافع کو بیان ہی کرتا ہے بلکہ معقولی طور پر دلائل و براہین کے ساتھ ان کو پیش کرتا ہے تا کہ عقل سلیم سے کام لینے والوں کو کوئی جگہ انکار کی نہ رہے۔جیسا میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ قرآن کے وقت استعدادیں معقولیت کا رنگ پکڑ گئی تھیں اور توریت کے وقت وحشیانہ حالت تھی۔آدمؑ سے لے کر زمانہ ترقی کرتا گیا تھا اور قرآن کے وقت دائرہ کی طرح پورا ہوگیا۔حدیث میں ہے زمانہ مستدیر ہوگیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (الاحزاب:۴۱)۔ضرورتیں نبوت کا انجن ہیں۔ظلماتی راتیں اس نور کو کھینچتی ہیں جو دنیا کو تاریکی سے نجات دے۔اس ضرورت کے موافق نبوت کا سلسلہ شروع ہوا اور جب قرآن کے زمانہ تک پہنچا تو مکمل ہو گیا۔اب سب ضرورتیں پوری ہو گئیں۔اس سے لازم آیا کہ آپ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے۔اب بڑا اور واضح فرق ایک تو یہی ہے کہ قرآن نے دلائل پیش کئے ہیں جن کو توریت نے مَس تک نہیں کیا۔قرآن شریف اور توریت کی تعلیم میں دوسرا فرق دوسرا فرق یہ ہے کہ توریت نے صرف بنی اسرائیل کو مخاطب کیا ہے اور دوسری قوموں سے کوئی تعلق اور واسطہ ہی نہیں رکھا۔اور یہی وجہ ہے کہ دلائل و براہین پر اس نے زور نہیں دیا کیونکہ توریت کے زیر نظر کوئی فرقہ دہریہ، فلاسفیہ اور براہمہ کا نہ تھا۔قرآن نے چونکہ کُل مِلَل اور فرقوں کو زیر نظر رکھ لیااور تمام ضرورتیں اس تک پہنچ کر ختم ہو گئی تھیں اس لئے قرآن نے عقائد کو بھی اور احکام عملی کو بھی مدلّل کیا۔چنانچہ قرآن فرماتا ہے قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ (النّور:۳۱) یعنی مومنوں سے کہہ دے کہ اپنے ستر کو آنکھ پھاڑ کر نہ دیکھیں اور باقی تمام فروج کی بھی حفاظت کریں۔لازم ہے کہ انسان چشم خوابیدہ ہو تاکہ غیر محرم عورت کو دیکھ کر فتنہ میں نہ پڑے۔کان بھی فروج میں داخل ہیں جو قصص سن کر فتنہ میں پڑ جاتے ہیں اس لئے عام طور پر فرمایا کہ تمام موریوں کو