ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 66

متقیوں اور راستبازوں ہی کے شامل حال ہوا کرتا ہے۔اپنے اخلاق اور اطوار ایسے نہ بناؤ جن سے اسلام کو داغ لگ جاوے۔بدکاروں اور اسلام کی تعلیم پر عمل نہ کرنے والے مسلمانوں سے اسلام کو داغ لگتا ہے۔کوئی مسلمان شراب پی لیتا ہے تو کہیں قے کرتا پھرتا ہے۔پگڑی گلے میں ہوتی ہے۔موریوں اور گندے نالوں میں گرتا پھرتا ہے۔پولیس کے جوتے پڑتے ہیں۔ہندو اور عیسائی اس پر ہنستے ہیں۔اب اس کا ایسا خلاف شرع فعل اس کی ہی تضحیک کا موجب نہیں ہوتا بلکہ درپردہ اس کا اثر نفسِ اسلام تک پہنچتا ہے۔مجھے ایسی خبریں یا جیل خانوں کی رپورٹیں پڑھ کر سخت رنج ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ اس قدر مسلمان بدعملیوں کی وجہ سے مورد عتاب ہوئے۔دل بے قرار ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ جو صراط مستقیم رکھتے ہیں۔اپنی بداعتدالیوں سے اپنے آپ کو ہی نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ اسلام پر ہنسی کراتے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ کسی گذشتہ مردم شماری کے وقت مسٹر ایبٹسن صاحب نے اپنی رپورٹ میں بہت کچھ لکھا تھا۔میری غرض اس سے یہ ہے کہ مسلمان لوگ مسلمان کہلا کر ان ممنوعات اور منہیات میں مبتلا ہوتے ہیں جو نہ صرف ان کو بلکہ اسلام کو مشکوک کر دیتے ہیں۔پس اپنے چال چلن اور اطوار ایسے بنا لو کہ کفار کو بھی تم پر (جو دراصل اسلام پر ہوتی ہے) نکتہ چینی کرنے کا موقع نہ ملے۔اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہے تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے۔مسلمان پوچھنے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہہ دینا سچا سپاس اور شکر نہیں ہے۔اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت اور تقویٰ کی راہیں اختیار کر لیں میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا۔مجھے یاد ہے کہ ایک ہندو سر رشتہ دار نے جس کا نام جگن ناتھ تھا اور جو ایک متعصب ہندو تھا بتلایا کہ امرتسر یا کسی جگہ میں سر رشتہ دار تھا اور ایک ہندو اہلکار درپردہ نماز پڑھا کرتا تھا اور بظاہر ہندو تھا۔میں اور دیگر سارے ہندو اسے بہت بُرا جانتے تھے۔ہم سب اہلکاروں نے مل کر ارادہ کر لیا کہ اس کو موقوف کرائیں اور سب سے زیادہ شرارت میرے دل میں تھی۔میں نے کئی بار شکایت کی کہ اس نے یہ غلطی کی ہے اور یہ خلاف ورزی کی ہے مگر اس پر کوئی التفات نہ ہوتی تھی لیکن ہم نے ارادہ کر لیا ہوا تھا کہ اس کو ضرور موقوف کرائیں گے