ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 65

جیسے چوہڑے کو بھی مصلّی یا مومن کہہ دیتے ہیں۔مسلمان وہی ہے جو اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ کا مصداق ہو گیا ہو۔وَجْہٌ مونہہ کو کہتے ہیں مگر اس کا اطلاق ذات اور وجود پر بھی ہوتا ہے۔پس جس نے ساری طاقتیں اللہ کے حضور رکھ دی ہوں وہی سچا مسلمان کہلانے کا مستحق ہے۔مجھے یاد آیا کہ ایک مسلمان نے کسی یہودی کو دعوت اسلام کی کہ تو مسلمان ہو جا۔مسلمان خود فسق و فجور میں مبتلا تھا۔یہودی نے اس فاسق مسلمان کو کہا کہ تو پہلے اپنے آپ کو دیکھ اور تو اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تو مسلمان کہلاتا ہے۔خدائے تعالیٰ اسلام کا مفہوم چاہتا ہے نہ نام اور لفظ۔یہودی نے اپنا قصہ بیان کیا کہ میں نے اپنے لڑکے کا نام خالد رکھا تھا مگر دوسرے دن مجھے اسے قبر میں گاڑنا پڑا۔اگر صرف نام ہی میں برکت ہوتی تو وہ کیوں مرتا؟ اگر کوئی مسلمان سے پوچھتا ہے کہ تو کیا مسلمان ہے؟ تو وہ جواب دیتا ہے الحمد للہ۔پس یاد رکھو کہ صرف لفّاظی اور لسّانی کام نہیں آسکتی جب تک کہ عمل نہ ہو اور باتیں عنداللہ کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں۔چنانچہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (الصّف:۴) اسلام کی خدمت کا شرف حاصل کرنے کا طریق اب میں پھر اپنے پہلے مقصد کی طرف رجوع کرتا ہوں یعنی صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا (اٰل عمران:۲۰۱) جس طرح دشمن کے مقابلہ پر سرحد پر گھوڑا ہونا ضروری ہے تاکہ وہ حد سے نہ نکلنے پاوے۔اسی طرح تم بھی تیار رہو۔ایسا نہ ہو کہ دشمن سرحد سے گزر کر اسلام کو صدمہ پہنچائے۔میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اگر تم اسلام کی حمایت اور خدمت کرنا چاہتے ہو تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو جس سے خود تم خدائے تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آسکو اور پھر تم کو اس خدمت کا شرف اور استحقاق حاصل ہو۔تم دیکھتے ہو کہ مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہو گئی ہے۔قومیں ان کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی کمزور اور پست ہو گئی تو بس پھر تو خاتمہ ہی سمجھو۔تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قدسی قوت ان میں سرایت کرے اور وہ سرحد کے گھوڑوں کی طرح مضبوط اور محافظ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ