ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 504 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 504

جل جاتی ہے اور اس کی جگہ ایک روشنی اور نور بھر دیا جاتا ہے۔پھر خدا کی رضا اس کی رضا اور اس کی رضا خدا کا منشا ہو جاتا ہے۔اس حالت پر پہنچ کر خدا کی محبت اس کے لئے بمنزلہ جان ہوتی ہے اور جس طرح زندگی کے واسطے لوازم زندگی ہیں اس کی زندگی کے واسطے خدا اور صرف خدا ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کی خوشی اور راحت خدا ہی میں ہوتی ہے۔پھر دنیا داروں کے نزدیک اگر اسے کوئی رنج اور کرب پہنچے تو پہنچے لیکن اصل یہی بات ہے کہ اس ہم و غم میں بھی وہ اطمینان اور سکینت سے الٰہی لذّت لیتا ہے جو کسی دنیا دار کی نظر کے بڑے سے بڑے فارغ البال کو بھی نصیب نہیں۔بر خلاف اس کے جو کچھ حالت انسان کی ہے وہ جہنم ہے۔گویا خدا تعالیٰ کے سوا زندگی بسر کرنا یہ بھی جہنم ہے۔پھر حدیث شریف سے یہ بھی پتا لگتا ہے کہ تپ بھی حرارت جہنم ہی ہے۔امراض اور مصائب جو مختلف قسم کے انسان کو لاحق حال ہوتے ہیں یہ بھی جہنم ہی کا نمونہ ہیں اور یہ اس لئے کہ تا دوسرے عالم پر گواہ ہوں اور جزا و سزا کے مسئلہ کی حقیقت پر دلیل ہوں اور کفارہ کے لغو مسئلہ کی تردید کریں۔مثلاً جذام ہی کو دیکھو کہ اعضا گر گئے ہیں اور رقیق مادہ اعضا سے جاری ہے۔آواز بیٹھ گئی ہے۔ایک تو یہ بجائے خود جہنم ہے۔پھر لوگ نفرت کرتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں۔عزیز سے عزیز بیوی، فرزند، ماں باپ تک کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔بعض اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں۔بعض اور خطرناک امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔پتھریاں ہو جاتی ہیں، اندر پیٹ میں رسولیاں ہو جاتی ہیں۔یہ ساری بلائیں اس لئے انسان پر آتیں ہیں کہ وہ خدا سے دور ہو کر زندگی بسر کرتا ہے اور اس کے حضور شوخی اور گستاخی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کی عزت اور پروا نہیں کرتا ہے۔اس وقت ایک جہنم پیدا ہو جاتا ہے۔اب میں پھر اصل مطلب کی طرف رجوع کرکے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے جہنم کے لئے اکثر انسانوں اور جنّوں کو پیدا کیا ہے اور پھر فرمایا کہ وہ جہنم انہوں نے خود ہی بنا لیا ہے۔ان کو جنت کی طرف بلایا جاتا ہے۔پاک دل پاکیزگی سے باتیں سنتا ہے اور ناپاک خیال