ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 505 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 505

انسان اپنی کورانہ عقل پر عمل کر لیتا ہے۔پس آخرت کا جہنم بھی ہوگا اور دنیا کے جہنم سے بھی مخلصی اور رہائی نہ ہو گی کیونکہ دنیا کا جہنم تو اس جہنم کے لئے بطور دلیل اور ثبوت کے ہے۔۱۱۷؎ وعظ کا منصب نا اہل پلید لوگ سچی اور حق و حکمت کی بات سن ہی نہیں سکتے اور جب کبھی کوئی بات معرفت اور حکمت کی ان کے سامنے پیش کی جاوے تو وہ اس پر توجہ نہیں کرتے بلکہ لاپروائی سے ٹال دیتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ وہ لوگ جو حق کہیں وہ بھی تھوڑے ہیں۔محض اللہ تعالیٰ کے لئے کسی کو حق کہنے والے لوگوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔گویا ہے ہی نہیں۔علی العموم واعظ وعظ کہتے ہیں لیکن ان کی اصل غرض اور مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ لوگوں سے کچھ وصول کریں اور دنیا کماویں۔یہ غرض جب اس کی باتوں کے ساتھ ملتی ہے تو حقانیت اور للہیت کو اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے اور وہ لذت اور معرفت کی خوشبو جو کلامِ الٰہی کے سننے سے دل و دماغ میں پہنچتی اور روح کو معطر کر دیتی ہے۔وہ خود غرضی اور دنیا پرستی کے تعفن میں دب کر رہ جاتی ہے اور اسی مجلس وعظ میں اکثر لوگ کہہ اٹھتے ہیں۔میاں یہ ساری باتیں ٹکڑا کمانے کی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ اکثر لوگوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ذریعہ معاش قرار دے لیا ہے لیکن ہر ایک ایسا نہیں ہے۔ایسے پاک دل انسان بھی ہوتے ہیں جو صرف اس لیے خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں لوگوں تک پہنچاتے ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے وہ مامور ہیں اور اس کو فرض سمجھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں۔وعظ کا منصب ایک اعلیٰ درجہ کا منصب ہے۔اور وہ گویا شان نبوت اپنے اندر رکھتا ہے۔بشرطیکہ خدا ترسی کو کام میں لایا جاوے۔وعظ کہنے والا اپنے اندر خاص قسم کی اصلاح کا موقع پا لیتا ہے کیونکہ لوگوں کے سامنے یہ ضروری