ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 503 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 503

ہو تو جہنم ہی ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے انسان کا تکلیف سے بچانے اور آرام دینے کے لئے متولّی نہیں ہوتا۔یہ خیال مت کرو کہ کوئی ظاہری دولت یا حکومت یا مال و عزت،اولاد کی کثرت کسی شخص کے لئے کوئی راحت یا اطمینان اور سکینت کا موجب ہو جاتی ہے اور وہ دم نقد بہشت میں ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں۔وہ اطمینان اور وہ تسلی اور وہ تسکین جو بہشت کے انعامات میں سے ہے ان باتوں سے نہیں ملتی۔وہ خدا ہی میں زندہ رہنے اور مرنے سے مل سکتی ہے جس کے لئے انبیاء علیہم السلام خصوصاً ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام کی یہی وصیت تھی کہ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (البقرۃ:۱۳۳) لذّات دنیا تو ایک قسم کی ناپاک حرص پیدا کرکے طلب اور پیاس کو بڑھا دیتی ہیں۔استسقاء کے مریض کی طرح پیاس نہیں بجھتی۔یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔پس یہ بے جا آرزو اور حسرتوں کی آگ بھی منجملہ اسی جہنم کی آگ کے ہے جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں لینے دیتی بلکہ اس کو ایک تذبذب اور اضطراب میں غلطاں پیچاں رکھتی ہے۔اس لئے میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر ہرگز پوشیدہ نہ رہے کہ انسان مال و دولت یا زن و فرزند کی محبت کے جوش اور نشہ میں ایسا دیوانہ اور از خود رفتہ نہ ہو جاوے کہ اس میں اور خدا تعالیٰ میں ایک حجاب پیدا ہو جاوے۔مال اور اولاد اسی لئے تو فتنہ کہلاتی ہے۔ان سے بھی انسان کے لئے ایک دوزخ طیار ہوتا ہے اور جب وہ ان سے الگ کیا جاتا ہے تو سخت بے چینی اور گھبراہٹ ظاہر کرتا ہے اور اس طرح پر یہ بات کہ نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ (الھمزۃ:۸،۷) منقولی رنگ میں نہیں رہتا بلکہ معقولی شکل اختیار کر لیتا ہے۔پس یہ آگ جو انسانی دل کو جلا کر کباب کر دیتی اور ایک جلے ہوئے کوئلہ سے بھی سیاہ اور تاریک بنا دیتی ہے۔یہ وہی غیر اللہ کی محبت ہے۔دو چیزوں کے باہم تعلق اور رگڑ سے ایک حرارت پیدا ہوتی ہے اسی طرح پر انسان کی محبت اور دنیا اور دنیا کی چیزوں کی محبت کی رگڑ سے الٰہی محبت جل جاتی ہے اور دل تاریک ہوکر خدا سے دور ہو جاتا ہے اور ہر قسم کی بے قراری کا شکار ہو جاتا ہے۔لیکن جب کہ دنیا کی چیزوں سے جو تعلق ہو وہ خدا میں ہو کر ایک تعلق ہو اور ان کی محبت خدا کی محبت میں ہو کر ہو اس وقت باہمی رگڑ سے غیر اللہ کی محبت