ملفوظات (جلد 1) — Page 40
یہودیوں میں بہت فرقے ہوں گے۔ان کے عقائد میں سخت اختلاف ہوگا۔بعض کو فرشتوں کے وجود سے انکار۔بعض کو قیامت وحشر اجساد سے انکار۔غرض جب طرح طرح کی عملی بداعتقادی پھیل جاوے گی تب بطور حَکَم کے مسیح ان میں آوے گا۔اسی طرح ہمارے ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو اطلاع دی کہ جب تم میں بھی یہودیوں کی طرح کثرت سے فرقے ہو جاویں گے ان کی طرح مختلف قسم کی بداعتقادیاں اور بدعملیاں شروع ہوں گی علماء یہود کی طرح بعض بعض کے مکفّر ہوں گے۔اس وقت اس امت مرحومہ کا مسیح بھی بطور حَکَم کے آوے گا جو قرآن سے ہر امر کا فیصلہ کرے گا۔وہ مسیح کی طرح قوم کے ہاتھ سے ستایا جاوے گا اور کافر قرار دیا جاوے گا۔اگر ان لوگوں نے کم سمجھی سے اس شخص کو دجال اور کافر کہا تو ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ حدیث میں آچکا تھا کہ آنے والا مسیح کافر اور دجال ٹھہرایا جاوے گا لیکن جو عقیدہ آپ کو سکھلایا جاتا ہے وہ بالکل صاف اور اُجلٰی ہے اور محتاج دلائل بھی نہیں۔برہان قاطع اپنے ساتھ رکھتا ہے۔وفات مسیح پہلا جھگڑا وفات مسیح کا ہی ہے۔کھلی کھلی آیات اس کی حمایت میں ہیں۔يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ (اٰل عمران: ۵۶) پھر فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ (المآئدۃ:۱۱۸) یہ عذر بالکل جھوٹا ہے کہ توفّی کے معنی کچھ اور ہیں۔ابن عباس رضی اللہ عنہ اور خود ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معنی اماتت کے کر دیئے ہیں۔یہ لوگ بھی جہاں کہیں لفظ توفّی استعمال کرتے ہیں تو معنی اماتت اور قبض روح سے مراد لیتے ہیں۔قرآن نے بھی ہر ایک جگہ اس لفظ کے یہی معنے بیان کئے ہیں سو اس کا ہاتھ تو کہیں نہ پڑا۔اور جب مسیح ناصری کی وفات ثابت ہے توآنے والا ضرور ہے کہ امت میں سے کوئی ہو جیسے کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ (الحدیث) اس کی تصریح کرتا ہے۔وہ لوگ جو نیچری ہیں ان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اس ابتلا سے بچ گئے کیونکہ وفاتِ مسیح کے تو وہ قائل ہی ہیں اور مسیح موعود کا ذکر اس قدر تواتر رکھتا ہے کہ جس تواتر سے انکار محال ہے۔علاوہ ازیں اشارات قرآنی بھی آنے والے کے شاہد ہیں تو عقل مند اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ مسیح آوے گا۔