ملفوظات (جلد 1) — Page 41
مسیح کو اس زمانہ سے کیا خصوصیت ہے؟ ہاں بعض کا حق ہے کہ یہ اعتراض کریں کہ مسیح کو اس زمانہ سے کیا خصوصیت ہے؟ قرآن شریف نے اسرائیلی اور اسماعیلی سلسلوں میں خلافت کی مماثلت کا کھلا کھلا اشارہ کیا ہے۔جیسے اس آیت سے ظاہر ہے وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔۔۔الآیۃ(النّور:۵۶) اسرائیلی سلسلہ کا آخری خلیفہ جو چودہویں صدی پر بعد از موسیٰ علیہ السلام آیا وہ مسیح ناصریؑ تھا۔مقابل میں ضرور تھا کہ اس امت کا مسیح بھی چودہویں صدی کے سر پر آوے۔علاوہ ازیں اہل کشف نے اسی صدی کو بعثت مسیح کا زمانہ قرار دیا جیسے شاہ ولی اللہ صاحب ؒ وغیرہ۔اہل حدیث کا اتفاق ہو چکا ہے کہ علامات صغریٰ کُل اور علامات کبریٰ ایک حد تک پوری ہو چکی ہیں لیکن اس میں کسی قدر ان کی غلطی ہے۔علامات کُل پوری ہوچکیں۔بڑی بھاری علامت یا نشان جوآنے والے کا ہے وہ بخاری میں یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ۔۔۔الخ (بخاری) لکھا ہے یعنی نزول مسیح کا وقت غلبہ نصاریٰ اور صلیبی پرستش کا زور ہے۔سو کیا یہ وہ وقت نہیں؟ کیا جو جو کچھ پادریوں سے پہنچ چکا ہے اس کی نظیر آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کہیں ہے؟ ہر ملک میں تفرقہ پڑ گیا۔کوئی ایسا خاندان اسلامی نہیں کہ جس میں سے ایک آدھ ان کے ہاتھ نہ چلا گیا ہو۔سو آنے والے کا وقت صلیب پرستی کا غلبہ ہے۔اب اس سے زیادہ کیا غلبہ ہوگا۔کس طرح درندوں کی طرح اسلام پر کینہ وری سے حملے کئے گئے۔کوئی گروہ ہے کہ جس نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت وحشیانہ الفاظ اور گالیوں سے یاد نہ کیا؟ اب اگر آنے والے کا یہ وقت نہیں تو بہت جلدی وہ آیا بھی تو سو سال کو آوے گا کیونکہ وہ وقت کا مجدد ہے جس کی بعثت کا زمانہ صدی کا سر ہوتا ہے۔تو کیا اسلام میں اور طاقت ہے کہ ایک صدی تک پادریوں کے روزافزوں غلبہ کا مقابلہ کر سکے۔غلبہ حد تک پہنچ گیا اور آنے والا آگیا۔اب ہاں وہ ہلاک دجال کو اتمام حجت سے کرے گا کیونکہ حدیثوں میں آچکا ہے کہ اس کے ہاتھ پر ملّتوں کی ہلاکت مقدر ہے نہ لوگوں کی یا اہلِ ملل کی، تو ویسا ہی پورا ہوا۔