ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 455 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 455

صحابہ ؓ نے دنیا میں کامیابی حاصل کی پھر مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ جزا و سزا کا مالک۔اچھے کام کرنے والوں کو جزا دی جاوے اگرچہ کامل طور پر یہ آخرت کے لیے ہے اور سب قومیں جزاوسزا کو آخرت ہی پر ڈالتی ہیں مگر خدا نے اس کا نمونہ اسلام کے لیے اس دنیا میں رکھا۔ابوبکر رضی اللہ عنہ جو دوپہر کی دُھوپ میں گھر بار مال و متاع چھوڑ کر اُٹھ کھڑا ہوا تھا اور جس نے ساری جائیداد کو دیکھ کر کہہ دیا کہ۔بر باد شُد، برباد باشد۔سب سے انقطاع کرکے ساتھ ہی ہو لیا تھا۔اُس نے یہ مزہ پایا کہ آپؐ کے بعد سب سے پہلا خلیفہ بلا فصل یہی ہوا۔حضرت عمرؓ جو صدق اخلاص سے بھر گئے تھے۔اُنھوں نے یہ مزہ پایا کہ اُن کے بعد خلیفہ ثانی ہوئے۔غرض اسی طرح پر ہر ایک صحابی نے پوری عزت پائی۔قیصر و کسریٰ کے اموال اور شاہزادیاں اُن کے ہاتھ آئیں۔لکھا ہے ایک صحابی کسریٰ کے دربار میں گیا۔ملازمان کسریٰ نے سونے چاندی کی کرسیاں بچھوا دیں اور اپنی شان و شوکت دکھائی۔اُس نے کہا کہ ہم اس مال کے ساتھ فریفتہ نہیں ہوئے ہم کو تو وعدہ دیا گیا ہے کہ کسریٰ کے کڑے بھی ہمارے ہاتھ آجائیں گے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کڑے ایک صحابی کو پہنا دیئے تاکہ وہ پیشگوئی پوری ہو۔اسلام کا جادہ اعتدال مذہب اسلام چونکہ اعتدال پر واقع ہوا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تعلیم یہی دی ہے اور مغضوب اور ضالین سے بچنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ایک سچا مسلمان نہ مغضوب ہوسکتا ہے نہ ضالین کے زمرہ میں شامل ہو سکتا ہے۔مغضوب وہ قوم ہے جس پر خدا تعالیٰ کا غضب بھڑکا۔چونکہ وہ خود غضب کرنے والے تھے اس لیے خدا کے غضب کو کھینچ لائے اور وہ یہودی ہیں اور ضال سے مراد عیسائی ہیں۔غضب کی کیفیت قوت سبعی سے پیدا ہوتی ہے اور ضلالت وہمی قوت سے پیدا ہوتی ہے۔اور وہمی قوت حد سے زیادہ محبت سے پیدا ہوتی ہے۔بےجا محبت والا انسان بہک جاتا ہے حُبُّکَ الشَّیْءَ یُعْمِیْ وَیُصِمُّ اس کا مبدء اور منشا قوت وہمی ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ چادر کو بیل سمجھتا ہے اور رسّی کو سانپ بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی شاعر نے اپنا معشوق ایسا قرار نہیں دیا جو دوسروں سے بڑھ کر نہ