ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 454 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 454

خلاصہ ہے) کے صفات اربعہ میں دکھانا چاہا ہے کہ وہ چاروں نمونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں ان صفات اربعہ کا نمونہ دکھایا۔گویا وہ صفات دعویٰ تھیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود بطور دلیل کے ہے چنانچہ ربوبیت کا آپ کے وجود میں کیسا ثبوت دیا کہ مکہ کے جنگلوں کا سر گردان اور دس برس تک حیران پھرنے والا جس کے لئے کوئی راہ کھلی نظر نہ آتی تھی اس کی تربیت کا کس کو خیال تھا کہ اسلام روئے زمین پر پھیل جاوے گا اور اس کے ماننے والے ۹۰ کروڑ تک پہنچیں گے۔مگر آج دیکھو کہ دنیا کا کوئی آباد قطعہ ایسا نہیں جہاں مسلمان نہیں۔پھر الرحمن کی صفت کو دیکھو۔جس کا منشا یہ ہے کہ عمل کے بدوں کامیابی اور ضرورتوں کے سامان بہم پہنچائے۔کیسی رحمانیت تھی کہ آپ کے آنے سے پیشتر ہی استعدادیں پیدا کر دیں۔عمر رضی اللہ عنہ بچوں کی طرح کھیلتا تھا۔ابو بکر رضی اللہ عنہ جو کافروں کے گھر میں پیدا ہوا تھا اور ایسا ہی اور بہت سے صحابہ آپ کے ساتھ ہوگئے۔گویا ان کو آپ کے لئے رحمانیت الٰہی نے پہلے ہی تیار کر رکھا تھا اور اس قدر امور رحمانیت کے اسلام کے ساتھ ہیں کہ ہم ان کو مفصل بیان بھی نہیں کر سکتے۔اُمّیّت رحمانیت کو چاہتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا (الـجمعۃ:۳) رحمانیت کا منشا اس ضرب المثل سے خوب ظاہر ہے۔’’کر دے کرا دے اور اٹھانے والا ساتھ دے۔‘‘ اور یہ ظہور اسلا م کے ساتھ ہوا۔اسلام گویا خدا کی گود میں بچہ ہے۔اس کا سارا کام کاج سنوارنے والا اور اس کے سارے لوازم بہم پہنچانے والا خود خدا ہے۔کسی مخلوق کا بارِ احسان اس کی گردن پر نہیں۔اسی طرح رحیم جو محنتوں کو ضائع نہ کرے۔اس کے خلاف یہ ہے کہ محنت کرتا رہے اور ناکام رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رحیمیت کا اظہار دیکھو کیسے واضح طور پر ہوا۔کوئی لڑائی ایسی نہیں جس میں فتح نہ پائی ہو۔تھوڑا کام کرکے بہت اجر پایا ہے۔بجلی کے کوندنے کی طرح فتوحات چمکیں۔فتوحات الشام، فتوحات المصر ہی دیکھو۔صفحہ تاریخ میں کوئی ایسا انسان نہیں جس نے صحیح معنوں میں کامیابیاں پائی ہوں۔جیسے کامیابیاں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں۔