ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 456

ہو۔ہر ایک کے واہمہ نے نئی تصویر ایجاد کی۔قوت بہیمی میں جوش ہو کر انسان جادہٴ اعتدال سے نکل جاتا ہے چنانچہ غضب کی حالت میں درندہ کا جوش بڑھ جاتا ہے۔مثلاً کتّا پہلے آہستہ آہستہ بھونکتا ہے پھر کوٹھا سر پر اُٹھا لیتا ہے۔آخر کار درندے طیش میں آکر نوچتے اور پھاڑ کھاتے ہیں۔یہود نے بھی اسی طرح ظلم وتعدّی کی بُری عادتیں اختیار کیں اور غضب کو حد تک پہنچا دیا۔آخر خود مغضوب ہوگئے۔قوت وہمی کا جب استیلا ہوتا ہے تو انسان رسی کو سانپ بناتا اور درخت کو ہاتھی بتلاتا ہے اور اس پر کوئی دلیل نہیں ہوتی۔یہ قوت عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے۔اسی واسطے عیسائی مذہب اور بت پرستی کا بڑا سہارا عورتیں ہیں۔غرض اسلام نے جادہٴ اعتدال پر رہنے کی تعلیم دی جس کا نام اَلصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم ہے۔میں اب چند فقرے عربی میں سناؤں گا کیونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے مجمع میں کچھ عربی فقرے بولنے کا حکم دیا تھا۔پہلے میں نے خیال کیا کہ شاید کوئی اور مجمع ہوگا جس میں یہ خدا کی بات پوری ہو مگر خدا تعالیٰ مولوی عبدالکریم صاحب کو جزائے خیر دے کہ اُنھوں نے تحریک کی اور اس تحریک سے زبردست قوت دل میں پیدا ہوئی اور اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور نشان آج پورا ہو۔قریب تھا کہ حضور عربی خطبہ شروع کر دیتے مولانا عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ حضور! کچھ جماعت کے باہمی اتفاق و محبت پر بھی فرمایا جاوے۔اس پر حضرت اقدسؑ نے پھر مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔باہم اتفاق و محبت جماعت کے باہم اتفاق و محبت پر میں پہلے بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم وجود واحد رکھو ورنہ ہوا نکل جائے گی۔نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑا ہونے کا حکم اسی لیے ہے کہ باہم اتحاد ہو۔برقی طاقت کی طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی۔اگر اختلاف ہو اتحاد نہ ہو تو پھر بے نصیب رہو گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لیے غائبانہ دعا کرو۔اگر ایک شخص غائبانہ دعا کرے تو فرشتہ