ملفوظات (جلد 1) — Page 449
سے ماں بہن شناخت ہو جائے گی اور حق تو یہ تھا کہ وید کے ذمہ یہ فرض تھا کہ جہاں اس نے یہ پاکیزگی اور اخلاق کی جڑ کاٹنے والا مسئلہ ایجاد کیا تھا اگر اسے کوئی سوجھ اور سوچ بچار کی طاقت ہوتی تو ساتھ ہی علامات بھی بیان کر دیتا۔جس سے ایسے رشتوں سے اجتناب کرنے کی کلید ہاتھ میں آریوں کے آجاتی مگر ضروری تھا کہ وید کی تعلیم کی پیشانی پر نقص کا داغ لگا رہتا تو کہ ہر زمانہ میں تدبر کرنے والے اس کے بطلان میں پہچانے جا سکیں۔ایک طرف تو یہ حال ہے کہ نانی اور نانی کی بھی پڑ نانی تک کے رشتہ میں ناطہ نہیں کرتے اور ہم لوگوں میں جو چچا یا ماموں کی بیٹی سے رشتہ کرتے ہیں اس پر اعتراض کرتے ہیں۔مگر دوسری طرف آپ ماں بہن کے بیاہ لانے پر کوئی دلیل نہیں دیتے۔یا تو ہزاروں کوس چلے گئے یا ماں بہن کو بھی بیاہ لائے۔کسی قوم میں ایسا اندھیر نہیں۔افسوس ان کے پرمیشر نے ان کو ناپاکی میں تو ڈال دیا اور پھر کوئی فہرست بھی نہ دی اور نہ بتایا کہ فلاں گدھے یا بیل سے کام نہ لینا۔یہ تیرے فلاں رشتہ دار ہیں۔اور فلاں فلاں علامت والی عورت سے رشتہ نہ کرنا کہ وہ تیری حقیقی ماں یا دادی یا خالہ یا بہن یا بھتیجی جنم لے کر دوبارہ آئی ہے۔اصل میں یہ لوگ تو معذور ہیں۔یہ سارا ظلم پرمیشر کی گردن پر جس نے فہرست نہ دی۔نیوگ پھر تیسری ناپاکی جو ویدوں کی تعلیم کا عرق اور گل سر سبد بتائی گئی ہے نیوگ ہے۔جس کی تفسیر یہ ہے کہ ایک عورت جیتے جاگتے خاوند کے روبرو گیارہ آدمیوں سے ہم بستر ہو سکتی ہے۔اگر مرد عورت جوان ہوں اور چند سال شادی پر گزر جاویں اور اولاد نہ ہو تو دوسرے کا نطفہ لینے کے لئے عورت اس سے ہم بستر ہو اس لئے کہ بدوں اولاد کے سُرَگ کا ملنا محال ہے اور دیوث شوہر کو لازم ہے کہ بیرج داتا کے لئے عمدہ معجونات اور لطیف مقویات طیار کرائے تا کہ وہ تھک نہ جاوے اور کوئی ضعف اسے لاحق نہ ہو جائے اور وید کی رو سے بستر، رضائی اور چارپائی سب اسی کی ہو اور غذا بھی اسی کی کھاوے اور نصف بچے بھی لے لیوے۔سوچو! یہ کیسا خاوند ہے کہ ایک کوٹھری میں آپ دیوث ہے اور دوسری کوٹھری میں اس کی بیاہتا بیوی غیر مرد سے منہ کالا کرا رہی ہے اور آریہ ان کی حرکات کی آوازیں سنتا ہے اور دل میں خوش ہو رہا ہے کہ اب اس پانی سے اس کی امید کا کھیت