ملفوظات (جلد 1) — Page 448
آریوں میں خدا شناسی نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو آریہ کہلاتے ہیں اصلاً خدا کو پہچانتے ہی نہیں۔پھر ان میں خدا شناسی اور خدا بینی اور خدا نمائی کی قوت کیوں کر پیدا ہو۔ان کا تو پہلا قدم ہی غلط ہے۔ان کے نزدیک تو مرنا جینا، عورت یا مرد ہونا، بکری یا بیل بننا یہ سب کچھ شامت اعمال کا نتیجہ ہے۔جب کہ یہ جنم اور اشیاء اعمال ہی کا نتیجہ ہیں تو پھر خدا کیا اور اس کے وجود کے اثبات کے لیے نئے نئے نشان اور معجزات کیا اور ان کی ضرورت ہی کیا رہی۔ان کا مذہب ہے کہ خدا پیدا کرنے والا نہیں بلکہ صرف جوڑنے جاڑنے والا ہے۔جیسے معمار یا کمہار ہوتے ہیں۔مادہ موجود تھا۔ارواح بھی اتفاق سے موجود تھیں۔پر میشر نے جھٹ جوڑ جاڑ کر مخلوق بنا لی نعوذباللہ۔مگر ہم پوچھتے ہیں کہ جب کہ ارواح اور ذرّات قدیم سے موجود ہیں تو اس پر کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ جوڑنا جاڑنا پرمیشر کے بدوں نہ ہو بلکہ طبعی طور پر دلیل تو یہ ملتی ہے کہ اشیاء کو طبعی طور پر تجاذب کی طرف میلان ہوتا ہے۔اگر یہ تجاذب اور کشش نہ ہو تو نہ اینٹ بن سکے اور نہ مکان رہ سکے اور نہ کوئی اور چیز دنیا میں موجود بوجود رہ سکے۔پس جب کہ آریہ لوگوں کے عقیدہ کے موافق روح اور مادہ قدیم سے ہیں اور طبیعات سے دلیل ملتی ہے کہ تجاذب کا خاصّہ تو آریوں کو پرمیشر سے تو فراغت اور فرصت ہوگئی۔اب آریہ کے پاس پرمیشر کے ہونے کا کیا ثبوت اور نشان ہے۔ایک طرف تو یہ ناپاکی ہے کہ خدا ہی کا پتہ نہیں چہ جائیکہ خدا بینی اور خدا نمائی کی راہیں بیان کر سکیں۔پھر یہ ظلم عظیم کہ ہر قسم کی چیزوں میں روحیں اعمال کا بدلہ پانے کے لئے آتی ہیں۔کبھی سؤر بنتے ہیں، کبھی کتا، کبھی بلی وغیرہ۔تناسخ اس پر سوال ہوتا ہے کہ اگر کسی کی ماں مَر جاوے جب کہ وہ ابھی بچہ ہی تھا اور اس نے کسی دوسری جگہ پر جنم لیا اور جب دونوں بلوغ کو پہنچے اور باہم ناطہ رشتہ ہو کر بیاہ ہوگیا اور ہم بستری ہو کر اولاد کا سلسلہ چلا۔اس سے تو بڑی بے شرمی اور پرلے درجہ کی بے حیائی کی بنیاد پڑی اور نہایت قابل شرم مذہب یہ مذہب ٹھہر گیا۔پرمیشر نے کوئی فہرست تو دی نہیں کہ اس قسم کے نشان