ملفوظات (جلد 1) — Page 450
ہرا بھرا ہو جائے گا۔حیف ہے ایسے مذہب پر! خدا پر وہ ظلم!! عزت و آبرو پر یہ ظلم!!!وید ایسے کاموں کی اجازت دیتا ہے کہ ناپاک سے ناپاک آدمی بھی ان کے ارتکاب سے شرم کرتے ہیں۔دیانند نے لکھا ہے کہ یہ شبھ کرم یعنی مبارک کام بیچ میں ترک ہو گیا تھا۔اب آریہ ورت کے آریہ جاری کریں کہ اس میں ثواب ملتا ہے۔ہم کو ضرورت نہیں کہ اس کو طول دیں۔آریوں کی کتب مذہبی اور معتقدات کو کوئی دیکھے اور خود ان ہی بزرگوں سے پوچھ دیکھے۔امید ہے کہ بڑے فخر سے اس فعل عجیب کی خوبیاں بیان کریں گے۔اسلام کی پاکیزہ تعلیم ان تمام مذاہب کو سامنے رکھ کر اور ان کی تعلیمات و عقائد کی خوب چھان بین کر کر اسلام کی ضرورت اور عزت محسوس ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے عظیم فضل کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس نے اسلام کو ایسے ناپاک عقیدوں سے پاک رکھا اور اس کی تعلیم کے ہر شعبہ میں کمال اور اعجاز کا جلوہ دکھایا چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم میں قصاص پر بڑا زور تھا کہ دانت کے بدلے دانت، کان کے بدلے کان، آنکھ کے بدلے آنکھ ہو اور مسیح علیہ السلام کی تعلیم میں اس بات پر زور تھا کہ بدی کا مقابلہ نہ کیا جاوے۔اگر کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیر دے۔کوئی ایک کوس بیگار لے جاوے تو دو کوس چلا جاوے۔کرتہ مانگے تو چادر بھی دے دے۔وغیرہ وغیرہ۔اب ہم کو دکھلاؤ کہ کیا کوئی پادری اس پر عمل بھی کرتا ہے؟ کوئی کسی پادری کے منہ پر طمانچہ مار کر تو دیکھ لے۔یقیناً دوسرا گال پھیرنے کی بجائے کچہری میں گھسیٹ کر لے جائے گا اور ہر قسم کے جھوٹ اور فریب سے سزا دلوانے کی فکر کرے گا مگر اسلام نے یہ تعلیم نہیں دی بلکہ وہ پاک تعلیم دی جو دنیا کی جان ہے اور انسان فطرتاً اس پر عمل کرتا ہے اور وہ یہ ہے جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ (الشورٰی: ۴۱) یعنی بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی عفو کرے مگر وہ عفو بے محل نہ ہو بلکہ اس عفو سے اصلاح مقصود ہو تواس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔مثلاً اگر چور کو چھوڑ دیا جائے تو وہ دلیر ہو کر ڈاکہ زنی کرے گا اس کو سزا ہی دینی چاہیے۔لیکن اگر دو نوکر ہوں اور ایک ان میں سے ایسا ہو کہ ذرا سی چشم نمائی ہی