ملفوظات (جلد 1) — Page 436
شرط ہے۔اس کے لئے بھی ہمیں گورنمنٹ انگلشیہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ ایمان و اعتقاد پختہ کرنے کے لئے عام تعلیم مذہبی کی ضرورت تھی اور مذہبی تعلیم کا انحصار مذہبی کتابوں کی اشاعت سے وابستہ تھا۔پریس، ڈاکخانہ کی برکت سے ہر قسم کی مذہبی کتابیں مل سکتیں ہیں اور اخبارات کے ذریعہ تبادلہ خیالات کا موقع ملتا ہے۔سعید الفطرت لوگوں کے لئے بڑا بھاری موقع حاصل ہے کہ ایمان و اعتقاد میں رسوخ حاصل کریں۔ان باتوں کے علاوہ جو ضروری اور اشد ضروری بات ایمان کے رسوخ کے لئے ہے وہ خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں جو اس شخص کے ہاتھ پر سرزد ہوتے ہیں جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے اور اپنے طرز عمل سے گمشدہ صداقتوں اور معرفتوں کو زندہ کرتا ہے۔سو خدا کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے اس زمانہ میں جس کو پھر ایمان زندہ کرنے کے لئے مامور کیا اور اس لئے بھیجا کہ تا لوگ قوت یقین میں ترقی کریں وہ بھی اسی مبارک گورنمنٹ کے عہد میں آیا۔وہ کون؟ وہی جو تم میں کھڑا ہوا بول رہا ہے۔چونکہ یہ مسلّم بات ہے کہ جب تک پورے طور پر ایمان نہ ہو نیکی کے اعمال انسان علیٰ وجہ الاتم بجا نہیں لا سکتا۔جس قدر کوئی پہلو یا کنگرہ ایمان کا گرا ہوا ہو اسی قدر انسان اعمال میں سست اور کمزور ہوگا۔اس بنا پر ولی وہ کہلاتا ہے جس کا ہر پہلو سالم ہو اور وہ کسی پہلو سے کمزور نہ ہو۔اس کی عبادات اکمل و اتم طور پر صادر ہوتی ہیں۔غرض دوسری شرط ایمان کی سلامتی ہے۔تیسری شرط انسان کے لئے طاقت مالی ہے۔مساجد کی تعمیر اور امور متعلقہ اسلام کی بجاآوری مالی طاقت پر منحصر ہے۔اس کے سوا تمدنی زندگی اور تمام امور کا اور خصوصاً مساجد کا انتظام بہت مشکل سے ہوتا ہے۔اب اس پہلو کے لحاظ سے گورنمنٹ انگلشیہ کو دیکھو۔گورنمنٹ نے ہر قسم کی تجارت کو ترقی دی۔تعلیم پھیلا کر ملک کے باشندوں کو نوکریاں دیں اور بڑے بڑے عہدے دیئے۔سفر کے وسائل بہم پہنچا کر دوسرے ملکوں میں جاکر روپیہ کما لانے میں مدد دی۔چنانچہ ڈاکٹر، پلیڈر، عدالتوں کے عہدہ دار، سررشتہ تعلیم وغیرہ بہت سے ذریعوں سے لوگ معقول روپیہ کماتے ہیں اور تجارت کرنے والے سوداگر قسم قسم کے تجارتی مال ولایت اور دور دراز ملکوں افریقہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں جاکر مالا مال ہو کر آتے ہیں۔غرض روز گار عام کر دیا اور روپیہ کمانے کے بہت سے