ملفوظات (جلد 1) — Page 435
ہوسکتا ہے۔اسی طرح پر حج زکوٰۃ وغیرہ بہت سے ضروری امور کی بجا آوری سے قاصر رہے گا۔اب دیکھنا چاہیے کہ گورنمنٹ کے طفیل سے ہم کو صحت جسمانی کے بحال رکھنے کے لئے کس قدر سامان ملے ہیں۔ہر بڑے شہر اور قصبہ میں کوئی نہ کوئی ہسپتال ضرور ہے جہاں مریضوں کا علاج نہایت دل سوزی اور ہمدردی سے کیا جاتا ہے اور دوا، غذا وغیرہ مفت دی جاتی ہیں۔بعض بیماروں کو ہسپتال میں رکھ کر ایسے طور پر ان کی نگہداشت اور غور و پرداخت کی جاتی ہے کہ کوئی اپنے گھر میں بھی ایسی آسانی اور سہولت اور آرام کے ساتھ علاج نہیں کر سکتا۔حفظانِ صحت کا ایک الگ محکمہ بنا رکھا ہے جس پر کروڑ ہا روپیہ سالانہ خرچ ہوتا ہے۔قصبات اور شہروں کی صفائی کے بڑے بڑے سامان بہم پہنچائے ہیں۔گندے پانی اور موادِ رَدّیہ مضر صحت کے دفع کرنے کے لئے الگ انتظام ہیں۔پھر ہر قسم کی سریع الاثر ادویہ طیار کرکے بہت کم قیمت پر مہیا کی جاتی ہیں یہاں تک کہ ہر ایک آدمی چند دوائیں اپنے گھر میں رکھ کر بوقت ضرورت علاج کر سکتا ہے۔بڑے بڑے میڈیکل کالج جاری کرکے طبّی تعلیم کو کثرت سے پھیلایا یہاں تک کہ دیہات میں بھی ڈاکٹر ملتے ہیں۔بعض خطرناک امراض چیچک، ہیضہ، طاعون وغیرہ کے دفعیہ کے لئے الگ محکمے ہیں۔جو ابھی طاعون کے متعلق جس قدر کاروائی گورنمنٹ کی طرف سے عمل میں آئی ہے وہ بہت ہی کچھ شکر گزاری کے قابل ہے۔غرض صحت کے لحاظ سے گورنمنٹ نے ہر قسم کی ضروری امداد دی ہے اور اس طرح پر عبادت کے لئے پہلی اور ضروری شرط پورا کرنے کے واسطے بہت بڑی مدد دی ہے۔دوسری شرط ایمان ہے۔اگر خدا تعالیٰ اور اس کے احکام پر ایمان ہی نہ رہا ہو اور اندر ہی اندر بے دینی اور الحاد کا جذام لگ گیا ہو پھر بھی تعمیل احکامِ الٰہی نہیں ہوتی۔جیسے بہت لوگ کہتے ہیں ’’ایہہ جگ مٹھا تے اگلا کن ڈٹھا۔‘‘ افسوس ہے دو آدمیوں کی شہادت پر ایک مجرم کو پھانسی مل سکتی ہے مگر باوجودیکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور بے انتہا ولیوں کی شہادت موجود ہے لیکن ابھی تک اس قسم کا الحاد ان لوگوں کے دلوں سے نہیں گیا۔ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے مقتدر نشانوں اور معجزات سے اَنَا الْمَوْجُوْد کہتا ہے مگر یہ کم بخت کان رکھتے ہوئے بھی نہیں سنتے۔غرض یہ شرط بھی بہت بڑی ضروری