ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 437

ذریعے پیدا کر دیئے۔چوتھی شرط امن ہے۔یہ امن کی شرط انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس کا انحصار علی الخصوص سلطنت پر رکھا گیا ہے۔جس قدر سلطنت نیک نیت اور اس کا دل کھوٹ سے پاک ہوگا اسی قدر یہ شرط زیادہ صفائی سے پوری ہوگی۔اب اس زمانہ میں امن کی شرط اعلیٰ درجہ پر پوری ہو رہی ہے۔میں خوب یقین رکھتا ہوں کہ سکھوں کے زمانہ کے دن انگریزوں کے زمانہ کی راتوں سے بھی کم درجہ پر تھے۔یہاں سے قریب ہی بوٹر ایک گاؤں ہے۔وہاں اگر کوئی عورت جایا کرتی تھی تو رو رو کر جایا کرتی تھی کہ خدا جانے پھر واپس آنا ہوگا یا نہیں۔اب یہ حالت ہے کہ زمین کی انتہا تک چلا جاوے کسی قسم کا خطرہ نہیں۔سفر کے وسائل ایسے آسان کر دیئے ہیں کہ ہر ایک قسم کا آرام حاصل ہے۔گویا گھر کی طرح ریل میں بیٹھا ہوا یا سویا ہوا جہاں چاہے چلا جاوے۔مال و جان کی حفاظت کے لئے پولیس کا وسیع صیغہ موجود ہے۔حقوق کی حفاظت کے لئے عدالتیں کھلی ہیں۔جہاں تک چاہے چلا جاوے۔یہ کس قدر احسان ہیں جو ہماری عملی آزادی کا موجب ہوئے ہیں۔پس اگر ایسی حالت میں جب کہ جسم و روح پر بے انتہا احسان ہو رہے ہیں ہم میں صلح کاری اور شکر گزاری کا مادہ پیدا نہیں ہوتا تو تعجب کی بات ہے!! جو مخلوق کا شکر نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا۔وجہ کیا ہے؟ اس لئے کہ وہ مخلوق بھی تو خدا ہی کا فرستادہ ہوتا ہے اور خدا ہی کے ارادہ کے تحت میں چلتا ہے۔الغرض یہ سب امور جو میں نے بیان کئے ہیں ایک نیک دل انسان کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ ایسے محسن کا شکر گزار ہو۔یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار اپنی تصنیفات میں اور اپنی تقریروں میں گورنمنٹ انگلشیہ کے احسانوں کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ ہمارا دل واقعی اس کے احسانات کی لذّت سے بھرا ہوا ہے۔احسان فراموش نادان اپنی منافقانہ فطرتوں پر قیاس کرکے ہمارے اس طریق عمل کو جو صدق اخلاص سے پیدا ہوتا ہے جھوٹی خوشامد پر حمل کرتے ہیں۔سچی توحید اب میں پھر اصل بات کی طرف عود کرکے بتلانا چاہتا ہوں کہ پہلے اس صورت میں خدا تعالیٰ نے رَبّ النَّاس فرمایا پھر مَلِکِ النَّاس آخر میں اِلٰہِ النَّاس فرمایا جو