ملفوظات (جلد 1) — Page 424
ورنہ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ اگر ہمارے دوستوں سے کسی نے شراب پی ہو اور بازار میں گرا ہوا ہو اور لوگوں کا ہجوم اس کے گرد ہو تو بلا خوف لَوْمَۃَ لَائِم کے اسے اٹھا کر لے آئیں گے۔فرمایا۔عہدِ دوستی بڑا قیمتی جوہر ہے اس کو آسانی سے ضائع کر دینا نہ چاہیے اور دوستوں سے کیسی ہی نا گوار بات پیش آوے اسے اغماض اور تحمل کے محل میں اتارنا چاہیے۔۱۰۱؎ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۰ء سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی نے اپنے کسی ضروری کام کے لئے مدراس واپس جانے کی اجازت طلب کی کیونکہ ان کو واپسی کے لئے تار بھی آیا تھا۔اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا۔رمضان المبارک میں حضور کی مصروفیات آپ کا اس مبارک مہینہ (رمضان) میں یہاں رہنا از بس ضروری ہے۔اور فرمایا۔ہم آپ کے لئے وہ دعا کرنے کو تیار ہیں جس سے باذن اللہ پہاڑ بھی ٹل جائے۔فرمایا۔میں آج کل احباب کے پاس کم بیٹھتا ہوں اور زیادہ حصہ اکیلا رہتا ہوں۔یہ احباب کے حق میں از بس مفید ہے۔میں تنہائی میں بڑی فراغت سے دعائیں کرتا ہوں اور رات کا بہت سا حصہ بھی دعاؤں میں صرف ہوتا ہے۔۱۰۲؎ ۲؍فروری۱۹۰۰ء اسلام ایک پاکیزہ دین عید الفطر کی تقریب پر حضرت اقدس ؑ نے ایک خاص جلسہ اس غرض کے لئے منعقد فرمایا تاکہ جنگ ٹرانسوال کی کامیابی کے لئے دعا کی جاوے اور مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کے حقوق اور ان کے فرائض سے آگاہ کیا جاوے۔