ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 425

حضرت اقدس نے عید الفطر کے خطبہ میں مفصّلہ ذیل تقریر فرمائی۔مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر کرنا چاہیے جس نے ان کو ایک ایسا دین بخشا ہے جو علمی اور عملی طور پر ہر ایک قسم کے فساد اور مکروہ باتوں اور ہر ایک نوع کی قباحت سے پاک ہے۔حمد کا حقیقی مستحق اللہ تعالیٰ ہے اگر انسان غور اور فکر سے دیکھے تو اس کو معلوم ہوگا کہ واقعی طور پر تمام محامد اور صفات کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی انسان یا مخلوق واقعی اور حقیقی طور پر حمد و ثنا کا مستحق نہیں ہے۔اگر انسان بغیر کسی قسم کی غرض کی ملونی کے دیکھے تو اس پر بدیہی طور پر کھل جاوے گا کہ کوئی شخص جو مستحق حمد قرار پاتا ہے وہ یا تو اس لیے مستحق ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جبکہ کوئی وجود اور وجود کی خبر نہ تھی وہ اس کا پیدا کرنے والا ہو یا اس وجہ سے کہ ایسے زمانہ میں کہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ معلوم تھا کہ وجود اور بقاءِ وجود اور حفظِ صحت اور قیام زندگی کے لیے کیا کیا اسباب ضروری ہیں اور اُس نے وہ سب سامان مہیا کیے ہوں یا ایسے زمانہ میں کہ اس پر بہت سی مصیبتیں آسکتی تھیں اُس نے رحم کیا ہو اور اُس کو محفوظ رکھا ہو اور یا اس وجہ سے مستحق تعریف ہو سکتا ہے کہ محنت کرنے والے کی محنت کو ضائع نہ کرے اور محنت کرنے والوں کے حقوق پورے طور پر ادا کرے اگرچہ بظاہر اجرت کرنے والے کے حقوق کا دینا معاوضہ ہے لیکن ایسا شخص بھی محسن ہو سکتا ہے جو پورے طور پر حقوق دے۔یہ صفات اعلیٰ درجہ کی ہیں جو کسی کو مستحق حمدوثنا بنا سکتی ہیں۔اب غور کرکے دیکھ لو کہ حقیقی طور پر ان سب محامد کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کامل طور پر ان صفات سے متصف ہے۔اَور کسی میں یہ صفات نہیں ہیں۔اوّل دیکھو صفتِ خلق اور پرورش۔یہ صفت اگرچہ انسان گمان کر سکتا ہے کہ ماں باپ اور دیگر محسنوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن اگر انسان زیادہ غور کرے گا تو اُس کو معلوم ہو جاوے گا کہ ماں باپ اور دیگر محسنوں کے اغراض و مقاصد ہوتے ہیں جن کی بنا پر وہ احسان کرتے ہیں۔اس پر دلیل یہ ہے کہ مثلاً بچہ تندرست، خوبصورت، توانا پیدا ہو تو ماں باپ کو خوشی ہوتی ہے اور اگر لڑکا ہو تو پھر یہ خوشی اور بھی بڑی ہوتی ہے۔شادیانے بجائے جاتے ہیں۔لیکن اگر لڑکی ہو تو گویا وہ گھر ماتم کدہ