ملفوظات (جلد 1) — Page 423
دوسروں پر ذرا بھی ترجیح نہیں دیتا۔میرے نزدیک متکبر سے زیادہ کوئی بُت پرست اور خبیث نہیں۔متکبر کسی خدا کی پرستش نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی پرستش کرتا ہے۔خلوت پسندی حضرت اقدسؑ خلوت کو بہت پسند فرماتے تھے۔اس بارہ میں فرمایا۔اگر خدا تعالیٰ مجھے اختیار دے کہ خلوت اور جلوت میں سے تُو کس کو پسند کرتا ہے۔تو اس پاک ذات کی قسم ہے کہ میں خلوت کو اختیار کروں۔مجھے تو کشاں کشاں میدانِ عالم میں انہوں نے نکالا ہے جو لذّت مجھے خلوت میں آتی ہے اس سے بجز خدا تعالیٰ کے کون واقف ہے۔میں قریب ۲۵ سال تک خلوت میں بیٹھا رہا ہوں اور کبھی ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں چاہا کہ دربارِ شہرت میں کرسی پر بیٹھوں۔مجھے طبعاً اس سے کراہت ہے کہ لوگوں میں مل کر بیٹھوں مگر اَمرِآمر سے مجبور ہوں۔فرمایا۔میں جو باہر بیٹھتا ہوں یا سیر کرنے جاتا ہوں اور لوگوں سے بات چیت کرتا ہوں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اَمر کی تعمیل کی بنا پر ہے۔خادمِ دین ہی ہماری دعاؤں کا مستحق ہے تائید الٰہی پر اگر کوئی قلم اٹھائے یا کوشش کرے تو حضور بڑی قدر کرتے تھے۔اس بارہ میں فرمایا۔اگر کوئی تائید دین کے لئے ایک لفظ نکال کر ہمیں دے تو ہمیں موتیوں اور اشرفیوں کی جھولی سے بھی زیادہ بیش قیمت معلوم ہوتا ہے۔جو شخص چاہے کہ ہم اس سے پیار کریں اور ہماری دعائیں نیاز مندی اور سوز سے اس کے حق میں آسمان پر جائیں۔وہ ہمیں اس بات کا یقین دلاوے کہ وہ خادمِ دین ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بارہا قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ہم ہر ایک شے سے محض خدا تعالیٰ کے لئے پیار کرتے ہیں۔بیوی ہو، بچے ہوں دوست ہوں۔سب سے ہمارا تعلق اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔۱۰۰؎ عہدِ دوستی کی رعایت میرا یہ مذہب ہے کہ جو شخص ایک دفعہ مجھ سے عہدِ دوستی باندھے۔مجھے اس عہد کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے میں اس سے قطع نہیں کر سکتا۔ہاں اگر وہ خود قطع تعلق کر دے تو ہم لاچار ہیں