ملفوظات (جلد 1) — Page 418
۶؍جنوری ۱۹۰۰ء حُسنِ معاشرت عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا۔فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں۔اور فرمایا۔ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا اور یہ درحقیقت ہم پر اتمام نعمت ہے۔اس کا شکر یہ ہے کہ عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔ایک دفعہ ایک دوست کی درشت مزاجی اور بد زبانی کا ذکر ہوا اور شکایت ہوئی کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔حضورؑ اس بات سے بہت کبیدہ خاطر ہوئے اور فرمایا۔ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہیے۔حضور بہت دیر تک معاشرتِ نسواں کے بارہ میں گفتگو فرماتے رہے اور آخر پر فرمایا۔میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور بایں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا۔اس کے بعد مَیں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع و خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الٰہی کا نتیجہ ہے۔عفوو در گزر ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ محمود ۹۸؎ چار ایک برس کا تھا۔حضرت معمولاً اندر بیٹھے لکھ رہے تھے اور مسودات لکھے ہوئے سارے رکھے تھے۔میاں محمود دیا سلائی لے کر وہاں تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بچوں کا ایک غول بھی تھا۔پہلے کچھ دیر تک آپس میں کھیلتے جھگڑتے رہے پھر جو کچھ دل میں آئی ان مسودات کو آگ لگا دی اور آپ لگے خوش ہونے اور تالیاں بجانے۔اور حضرت لکھنے میں مصروف ہیں۔سر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔اتنے میں آگ بجھ گئی اور قیمتی