ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 413 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 413

وقت پوری بیداری میں ہوتے ہیں اور یک دم ربودگی اور غنودگی وارد کر دیتا ہے اور اس جسمانی عالم سے قطعاً باہر لے جاتا ہے اس لئے کہ اس عالم سے پوری مناسبت ہو جائے۔پھر یوں ہوتا ہے کہ جب ایک مرتبہ کلام کر چکتا ہے پھر ہوش و حواس واپس دے دیتا ہے اس لئے کہ ملہم اس کلام کو محفوظ کرلے۔اس کے بعد پھر ربودگی طاری کرتا ہے پھر یاد کرنے کے لئے بیداری کر دیتا ہے۔غرض اس طرح کبھی پچاس دفعہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔وہ ایک تصرفِ الٰہی ہوتا ہے۔اس طبعی نیند سے اس کو کوئی تعلق نہیں اور اطباء اور ڈاکٹر اس کی ماہیت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔سائل کے لئے بے قراری ایک دن ایک سائل نے بعد فراغتِ نماز جبکہ آپ اندرونِ خانہ تشریف لے جارہے تھے سوال کیا۔مگر ہجوم کے باعث اس کی آواز اچھی طرح نہ سنی جا سکی۔اندر جا کر واپس تشریف لائے اور خدام کو سوالی کے بلانے کے لئے اِدھر اُدھر دوڑایا مگر وہ نہ ملا۔شام کو وہ پھر آیا۔اس کے سوال کرنے پر آپ نے اپنی جیب سے نکال کر کچھ دیا۔چند یوم بعد کسی تقریب پر فرمایا کہ اس دن جو وہ سائل نہ ملا میرے دل پر ایسا بوجھ تھا کہ مجھے سخت بے قرار کر رکھا تھا اور میں ڈرتا تھا کہ مجھ سے معصیت سر زد ہوئی ہے کہ میں نے سائل کی طرف دھیان نہیں کیا اور یوں جلدی اندر چلا گیا۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ شام کو واپس آگیا ورنہ خدا جانے میں کس اضطراب میں پڑا رہتا اور میں نے دعا بھی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے واپس لاوے۔۹۴؎ ۱۸۹۹ء کوئی نسخہ حکمی نہیں ہمارے گھر میں مرزا صاحب (مراد اپنے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم) پچاس برس تک علاج کرتے رہے۔وہ اس فن طبابت میں بہت مشہور تھے مگر ان کا قول تھا کہ کوئی حکمی نسخہ نہیں ملا۔حقیقت میں انہوں نے سچ فرمایا