ملفوظات (جلد 1) — Page 412
دین کی ہتک حرمات اللہ کی ہتک آپ کو گوارا نہ تھی۔اس بارہ میں فرمایا۔میری جائیداد کا تباہ ہونا اور میرے بچوں کا میری آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے ہونا مجھ پر آسان ہے بہ نسبت دین کی ہتک اور استخفاف کے دیکھنے اور اس پر صبر کرنے کے۔نیکی کا اخفا اخراجات کے بارہ میں احباب کے خیالات پر آپ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کھانے کے متعلق میں اپنے نفس میں اتنا تحمل پاتا ہوں کہ ایک پیسہ پر دو دو وقت بڑے آرام سے بسر کرسکتا ہوں۔ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ انسان کہاں تک بھوک کی برداشت کر سکتا ہے۔اس کے امتحان کے لئے چھ ماہ تک میں نے کچھ نہ کھایا۔کبھی کوئی ایک آدھ لقمہ کھا لیا اور چھ ماہ کے بعد میں نے اندازہ کیا کہ چھ سال تک بھی یہ حالت لمبی کی جاسکتی ہے۔اس اثنا میں دو وقت کھانا گھر سے برابر آتا تھا اور مجھے اپنی حالت کا اخفا منظور تھا۔اس اخفا کی تدابیر کے لئے جو زحمت مجھے اٹھانی پڑتی تھی شاید وہ زحمت اَوروں کو بھوک سے نہ ہوتی ہوگی۔میں وہ دو وقت کی روٹی دو تین مسکینوں میں تقسیم کر دیتا۔اس حال میں نماز پانچوں وقت مسجد میں پڑھتا اور کوئی میرے آشناؤں میں سے کسی نشان سے پہچان نہ سکا کہ میں کچھ نہیں کھایا کرتا۔مناسبِ حال قویٰ خدا تعالیٰ نے جس کام کے لئے کسی کو پیدا کیا ہے اس کی تیاری اور لوازم اور اس کے سر انجام اور مہمات کے طے کے لئے ان میں قویٰ بھی مناسب حال پیدا کیے ہیں۔دوسرے لوگ جو حقیقتاً فطرت کے مقتضا سے وہ قویٰ نہیں رکھتے اور ریاضتوں میں پڑ جاتے ہیں۔آخر کار دیوانے اور مخبط الحواس ہو جاتے ہیں۔اسی ضمن میں فرمایا۔نزول الہام کی کیفیت طبیبوں نے نیند کے لئے طبعی اسباب مقرر کیے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے کہ ہم سے کلام کرے۔اس