ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 414

کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی ذرّہ جو انسان کے اندر جاتا ہے کچھ اثر نہیں کرسکتا۔حکّام اور برادری سے حسن سلوک ایک شخص نے پوچھا کہ حکام اور برادری سے کیسا سلوک کریں۔فرمایا۔ہر ایک سے نیک سلوک کرو حکّام کی اطاعت اور وفاداری ہر مسلمان کا فرض ہے۔وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں اور ہر قسم کی مذہبی آزادی ہمیں دے رکھی ہے۔میں اس کو بڑی بے ایمانی سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری سچے دل سے نہ کی جاوے۔برادری کے حقوق ہیں۔ان سے بھی نیک سلوک کرنا چاہیے البتہ ان باتوں میں جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف ہیں ان سے الگ رہنا چاہیے۔ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک سے نیکی کرو اور خدا تعالیٰ کی کل مخلوق سے احسان کرو۔دعا اور قضاء و قدر جب اللہ تعالیٰ کا فضل قریب آتا ہے۔تو وہ دعا کی قبولیت کے اسباب پہنچا دیتا ہے۔دل میں ایک رقت اور سوز و گداز پیدا ہوجاتا ہے لیکن جب دعا کی قبولیت کا وقت نہیں ہوتا تو دل میں اطمینان اور رجوع پیدا نہیں ہوتا۔طبیعت پر کتنا ہی زور ڈالو مگر طبیعت متوجہ نہیں ہوتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی خدا تعالیٰ اپنی قضا و قدر منوانا چاہتا ہے اور کبھی دعا قبول کرتا ہے۔اس لئے میں تو جب تک اذنِ الٰہی کے آثار نہ پالوں قبولیت کی کم امید کرتا ہوں اور اس کی قضاء و قدر پر اس سے زیادہ خوشی کے ساتھ جو قبولیت دعا میں ہوتی ہے راضی ہو جاتا ہوں، کیونکہ اس رضا بالقضاء کے ثمرات اور برکات اس سے بہت زیادہ ہیں۔نسب کا تکبر نیکیوں سے محروم کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا۔وہ تو روحانیت اور مغز کو قبول کرتا ہے۔اس لئے فرمایا لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ (الـحج:۳۸) اور دوسری جگہ فرمایا اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ (المائدۃ:۲۸) حقیقت میں یہ بڑی نازک جگہ ہے۔یہاں پیغمبر زادگی بھی کام نہیں آسکتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بھی ایسا ہی فرمایا