ملفوظات (جلد 1) — Page 408
مہدی اور مہدی کا کام کسب خیر ہے۔یعنی جو بدعادات اور فسق و فجور پھیلا ہوا ہوگا وہ اس کو ہدایت سے بدل دے گا۔عیسیٰ کا لفظ عَوس سے لیا ہے جو دفعِ شر کی طرف ایما ہے۔ان ہر دو بروزوں میں سِرّ یہ ہے کہ مہدی کا بروز اکمل ہے کیونکہ اس کا کام ہے افاضہ خیر اور افاضہ خیر دفع شر کی نسبت اکمل بات ہے۔ایک شخص ہے جو کسی کی راہ سے صرف کانٹے اٹھاوے۔یہ بے شک بڑا کام ہے لیکن جو اس کو سواری دے اور اپنے گھر لے جا کر روٹی بھی کھلائے یہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔پس مہدی اکمل ہے۔اسی لئے وہ خلیفۃ اللہ ہے۔عیسیٰ ابن مریم جو مہدی خلیفۃ اللہ کی بیعت کرے گا اس میں یہی سِرّ ہے اور مہدی کا بروز یوں بھی اکمل ہے کہ وہ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہوگا اور آپ خاتم الانبیاء تھے اور اکمل الانبیاء اس لئے اس کا بروز بھی اکمل ہی ہوگا۔یہ دو بروز تھے۔علماء نے کیسا ظلم کیا کہ ایک بروز کو تو انہوں نے مان لیا کہ مہدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خُلق اور نام پر ہوگا لیکن عیسیٰ ابن مریمؑ کی نسبت یہی تجویز کیا کہ وہی آسمان سے اتر کر آئے گا۔کس قدر تعجب کی بات ہے کہ کیسے ذہن متنزل ہو گئے ہیں جو تناقض پیدا کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے۔ایک جگہ تو بروز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مان لیا۔اس کا قائم مقام خلیفۃ اللہ بن گیا۔مگر پھر یہ کیا ہوا کہ جو چھوٹا تھا اسے خود کیوں آنا پڑا؟ وہ مہدی جس کو افاضہ خیر دیا گیا ہے اور جو اکمل ہے اس کو بروزی رنگ میں لاتے اور مسیح ابن مریم کو اس کی بیعت کرانے کے واسطے خود اتارتے ہو۔ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا # اَلْاَئِـمَّۃُ مِنَ الْقُرَیْشِ کے معنی جب ان سے پوچھا جاوے کہ تم ایک نبی کو اتار کر جو اس کی بیعت مہدی کے ہاتھ پر کراتے ہو یہ کیا بات ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ کیا کیا جاوے، حدیث میں آیا ہے اَلْاَئِـمَّۃُ مِنَ الْقُرَیْشِ۔ہم کہتے ہیں کہ اگر اس حدیث کے وہی معنی ہوں جو تم قرار دیتے ہو تو چاہیے تھا کہ سلطنت روم کے سب باغی ہوتے اگر پیش گوئی کے طور پر بھی نہ سمجھا جاوے۔