ملفوظات (جلد 1) — Page 409
پھر جو سلطان روم کو خلیفۃ المسلمین قرار دیتے ہیں اس کے کیا معنی ہوئے؟ اصل بات یہ ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو کشفی طور پر دکھایا گیا تھا کہ خلیفہ قریش سے ہوں گے۔خواہ حقیقی طور پر یا بروزی طور پر۔جیسے دجال کا بروز بتایا۔اسی طرح پر سلاطین مغلیہ وغیرہ بروزی طور پر قریش ہی ہیں۔خدا نے جو عہد ان کو دیا وہ اس کے متکفل رہے۔جب تک خدا نے چاہا وہ سلطنت کرتے رہے۔جب تک کوئی بروز کے مسئلہ کو نہیں سمجھتا، اس پیش گوئی کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکتا اور آخر اس کو اس پیش گوئی کو جھٹلانا پڑے گا۔جب اصل قریش میں استعداد نہ رہی اور اس قوم میں وہ استعداد پائی گئی تو خدا نے وہ عہدہ اس کے حوالہ کیا۔یہی وجہ ہے کہ طبعاً سلطان روم کی متابعت اختیار کی اور سچی محبت سے اس کو قبول کیا۔یہ تصنّع اور بناوٹ سے نہیں ہوا بلکہ دلوں نے فتویٰ دیا کہ وہ خادم حرمین الشریفین ہے۔اظلالی امور ہمیشہ ہوتے ہیں اور ہوں گے یہ معنی ہیں اَلْاَئِـمَّۃُ مِنَ الْقُرَیْشِ کے۔غرض یہ دو نام ایک ہی شخص کے تھے۔ایک کو افاضہ خیر کا درجہ ملا۔دوسرے کو دفع شر۔افاضہ خیر چونکہ بڑھ کر ہے اس کو دفع شر پر بزرگی دی جاتی ہے اس لئے اس حیثیت سے وہ خلیفۃ اللہ کہلایا پس جیسے مقابل پر دو خبیث بروز تھے یہ خیر کے بروز تھے۔اب اس کے متعلق میں ایک اور نکتہ بیان کرکے اس بیان کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔عیسیٰ کے نام میں دفع شر کا مفہوم پایا جاتا ہے اور احمدؐ یا محمدؐ کے نام میں افاضۂ خیر کا مفہوم ہے نہایت ہی تعریف کیا گیا۔تعریف اس نام پر ہوتی ہے جس کو خیر پہنچاؤ گے وہ بے اختیار تعریف کرے گا۔حمد کرنے کے ساتھ لازمی طور پر منعم علیہ ہونا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد اس لئے ہی تھا کہ وہ افاضہ خیر ہے جو خَلق کی طرف کرتا ہے۔احمد منعم ہے اور محمد منعم علیہ ہے اور عیسیٰ کے معنی ہیں بچایا گیا ہے۔یہ دفع شر کی طرف اشارہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا نے وہ قصہ یاد دلایا اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً (البقرۃ:۳۱) اس قصہ میں پیش گوئی ہوتی ہے۔اب میں اس کا بیان لمبا کرنا نہیں چاہتا۔بس اسی پر ختم کرتا ہوں کہ مسیح اور مہدی دراصل ایک ہی شخص کے دو نام ہیں جو اس کی دو مختلف حیثیتوں