ملفوظات (جلد 1) — Page 407
مکّا مار دو تو یہ گناہ ہے۔یہ افراط ہے اور تفریط یہ ہے کہ اگر کسی کو ایک پیالہ پانی دینے کی ضرورت ہو مگر وہ اس کو ایک قطرہ دے۔غرض موجودہ زمانہ میں دجال کا بروز ایک معجون مرکب ہے۔ایک حملہ خدا پر ہو رہا ہے اور ایک نبوت پر۔ایک خدا کو انسان بناتا ہے دوسرا آپ ہی خدا بنتا ہے؟ کیا یہ بات سچ نہیں ہے۔کتابیں دیکھو، اخبارات پڑھو تو پتہ لگے گا کہ کس قدر فساد برپا ہورہا ہے۔اور یہ دو رنگی ظلم ڈھارہی ہے۔یاجوج ماجوج کے فساد کی نسبت میں نے بتادیا ہے کہ اس کا اثر دل پر پڑتا ہے۔اس کو شوکت ہے۔خدا کی طرف رجوع کرنا، امانت دیانت کا اختیار کرنا، شراب، زنا، بدنظری، قماربازی سے بچنا مشکل ہو رہا ہے۔بہت ہی تھوڑے شاید ایک آدمی فی ہزار ہو تو ہو جو بچتے ہوں گے۔نیکی کے دو بروز اب یہ بات کیسی صاف ہے کہ جبکہ بدی کے دو بروز تھے ایسا ہی نیکی کے بھی دو بروز بدی کے مقابل ضروری تھے چنانچہ دو بروز نیکی کے بھی رکھے۔دراصل وہ بھی ایک ہی چیز ہے جس کے دو نام ہیں۔جیسے ایک ہی حالت میں مجسڑیٹ اور کلکٹر دو جداگانہ عہدے ہوتے ہیں۔وہ نیکی کے بروز یہ ہیں کہ ایک تو اندرونی لحاظ سے ہے اور دوسرا بیرونی لحاظ سے۔اندرونی لحاظ سے وہ مہدی ہے اور بیرونی لحاظ سے مسیح ابن مریم۔مسیح بن مریم بیرونی طور پر مسیح کا کام کیا ہے جو اس کا یہ نام رکھا؟ مسیح ابن مریم کا کام دفع شر ہوگا اور مہدی کا کام کسب خیر۔چنانچہ غور کرو کہ مسیح کا کام یَقْتُلُ الْـخِنْـزِیْرَ اور یَکْسُـرُ الصَّلِیْبَ بتایا ہے یہی دفعِ شر ہے لیکن ہمارا یہ مذہب ہرگز نہیں ہے کہ وہ دفعِ شر کے لیے تیغ و سنان لے کر جنگ کے واسطے نکلے گا۔علماء جو یہ کہتے ہیں کہ وہ جنگ کرے گا یہ صحیح نہیں بلکہ بالکل غلط ہے۔یہ کیا اصلاح ہوئی کہ ابھی آپ آئے اور آتے ہی تلوار پکڑ کر لڑائی کے واسطے میدان میں نکل آئے۔یہ نہیں ہو سکتا۔صحیح اور سچی بات وہی ہے جو خدا تعالیٰ نے ہم پر کھولی جو احادیث کے منشا کے موافق ہے کہ مسیح کوئی خونی جنگ نہ کرے گا اور نہ تلوار پکڑ کر لڑنا اس کا منصب ہے بلکہ وہ تو اصلاح کے لیے آئے گا۔ہاں یہ ہم مانتے ہیں کہ اس کا کام دفعِ شر ہے اور وہ حجج اور براہین سے کرے گا۔