ملفوظات (جلد 1) — Page 387
آپ کا اُمّی ہونا ایک نمونہ اور دلیل ہے اس اَمر کی کہ قرآنی علوم یا آسمانی علوم کے لئے تقویٰ مطلوب ہے نہ دنیوی چالاکیاں۔تلاوتِ قرآن کریم کی غرض غرض قرآن شریف کی اصل غرض اور غایت دنیا کو تقویٰ کی تعلیم دینا ہے۔جس کے ذریعہ وہ ہدایت کے منشا کو حاصل کرسکے۔اب اس آیت میں تقویٰ کے تین مراتب کو بیان کیا ہے اَلَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ (البقرۃ:۴) لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں مگر طوطے کی طرح سے یونہی بغیر سوچے سمجھے چلے جاتے ہیں۔جیسے ایک پنڈت اپنی پوتھی کو اندھا دھند پڑھتا جاتا ہے۔نہ خود کچھ سمجھتا ہے اور نہ سننے والوں کو پتا لگتا ہے۔اسی طرح پر قرآن شریف کی تلاوت کا طریق صرف یہ رہ گیا ہے کہ دو چار سپارے پڑھ لیے اور کچھ معلوم نہیں کہ کیا پڑھا۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ سُر لگا کر پڑھ لیا اور ق اور ع کو پورے طور پر ادا کر دیا۔قرآن شریف کو عمدہ طور پر اور خوش الحانی سے پڑھنا یہ بھی ایک اچھی بات ہے مگر قرآن شریف کی تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر کرے۔نظامِ قرآنی اور آیت اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ کے الفاظ کی ترتیب یہ یاد رکھو کہ قرآن شریف میں ایک عجیب و غریب اور سچا فلسفہ ہے۔اس میں ایک نظام ہے جس کی قدر نہیں کی جاتی۔جب تک نظام اور ترتیب قرآنی کو مدِّنظر نہ رکھا جاوے اور اس پر پورا غور نہ کیا جاوے قرآن شریف کی تلاوت کے اغراض پورے نہ ہوں گے۔اگر یہ لوگ جو قرآن شریف کے ق اور عین اور ضاد پر لڑتے جھگڑتے ہیں اور ایک دوسرے کی تفسیق اور تکفیر پر منہ کھولتے ہیں نظامِ قرآنی کی قدر کرتے تو اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ (اٰل عـمران :۵۶) میں میرے ساتھ کیوں بَر سرِ پَرخاش ہوتے جبکہ وہ دیکھتے کہ قرآن شریف ایک ترتیب کے طور پر ان واقعات کو بیان کرتا ہے جو خارجی طور پر اپنا ایک وجود رکھتے ہیں۔کہ اے عیسیٰ! میں تجھے وفات دینے