ملفوظات (جلد 1) — Page 388
والا ہوں۔سوچنا چاہیے تھا کہ يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ قرآن شریف نے کہا کیوں۔اس کی ضرورت کیا پیش آئی تھی؟ یہودیوں ہی سے پوچھ لیتے تو یہ پتہ لگ جاتا۔اصل بات جس کو میں نے بارہا بیان کیا ہے یہ ہے کہ یہود حضرت مسیحؑ کو ملعون قرار دیتے ہیں۔مَعَاذَ اللّٰہ۔اور اس کا ثبوت وہ یہ دیتے ہیں کہ اُنہوں نے مسیحؑ کو صلیب کے ذریعہ قتل کر دیا مگر قرآن شریف نے اس الزام کو دور کیا ہے اور یہود کو ملزم کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کبھی بھی اپنے پاک بندوں کو ذلیل نہیں کرتا اور لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا (النسآء:۱۴۲) اس کا سچا وعدہ ہے۔حضرت مسیحؑ جب صلیب پر چڑھائے گئے تو اُن کو اندیشہ ہوا کہ یہ لوگ مجھے صلیبی موت سے ہلاک کرنے کا موجب ٹھہرے ہیں اور اس طرح پر یہ لعنتی موت ہوگی۔اس ہلاکت کی گھڑی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحؑ کو یہ بشارت دی کہ میں تجھے طبعی موت سے وفات دوں گا اور تجھے رفع کرنے والا ہوں اور تجھے پاک کرنے والا ہوں۔اس آیت کا ایک ایک لفظ اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے، مگر افسوس یہ لوگ کچھ بھی غور نہیں کرتے اور قرآن کریم کی ترتیب کو بدل کر تحریف کرنا چاہتے ہیں۔کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہ تھا جو یوں کہہ دیتا کہ یَا عِیْسٰی اِنِّیْ رَافِعُکَ اِلَی السَّمَآءِ۔پھر وہ کون سی دقّت اور مشکل اُس کو پیش آگئی تھی جو يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ ہی کہا۔۹۰؎ غرض اس آیت میں جو ترتیب رکھی گئی ہے وہ واقعات کی بنا پر ہے۔وہ احمق ہے جو کہتا ہے کہ ترتیب واؤ سے نہیں ہوتی ہے۔اگر ایسا ہی غبی ہے کہ وہ اس کو نہیں سمجھ سکتا تو اُس کو واقعات پر نظر کرنی چاہیے اور دیکھے کہ تطہیر رفع کے بعد ہوتی ہے یا پہلے۔اس تطہیر میں دراصل اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تیرے بعد ایک رسول آئے گا جو حَکم ہو کر تیری نسبت جھگڑے کو فیصل کردے گا اور جس قدر الزامات یہودی تجھ پر لگاتے ہیں اُن سے تجھے پاک ٹھہرائے گا۔تین ترتیبوں کے تو یہ مخالف بھی قائل ہیں یعنی رَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔یہ تو مانتے ہیں کہ مرتب کلام ہے۔