ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 386

انسان ایک پاک تبدیلی نہیں کرتا ہے اور نفس کا تزکیہ نہیں کرتا قرآن شریف کے معارف اور خوبیوں پر اطلاع نہیں ملتی۔قرآن شریف میں وہ نکات اور حقائق ہیں جو روح کی پیاس کو بجھا دیتے ہیں۔کاش دنیا کو معلوم ہوتا کہ روح کی لذّت کس چیز میں ہے اور پھر وہ معلوم کرتی کہ وہ قرآن شریف اور صرف قرآن شریف میں موجود ہے اَبدال کون ہیں دیکھو! جس جس قدر انسان تبدیلی کرتا جاتا ہے اسی قدر وہ ابدال کے زمرہ میں داخل ہوتا جاتا ہے۔حقائق قرآنی نہیں کھلتے جب تک ابدال کے زمرہ میں داخل نہ ہو۔لوگوں نے ابدال کے معنی سمجھنے میں غلطی کھائی ہے اور اپنے طور پر کچھ کا کچھ سمجھ لیا ہے۔اصل یہ ہے کہ ابدال وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اندر پاک تبدیلی کرتے ہیں اور اس تبدیلی کی وجہ سے ان کے قلب گناہ کی تاریکی اور زنگ سے صاف ہو جاتے ہیں۔شیطان کی حکومت کا استیصال ہوکر اللہ تعالیٰ کا عرش ان کے دل پر ہوتا ہے۔پھر وہ روح القدس سے قوت پاتے اور خدا تعالیٰ سے فیض پاتے ہیں۔تم لوگوں کو میں بشارت دیتا ہوں کہ تم میں سے جو اپنے اندر تبدیلی کرے گا وہ ابدال ہے۔انسان اگر خدا کی طرف قدم اٹھائے تو اللہ تعالیٰ کا فضل دوڑ کر اس کی دستگیری کرتا ہے۔یہ سچی بات ہے اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ چالاکی سے علوم القرآن نہیں آتے۔دماغی قوت اور ذہنی ترقی قرآنی علوم کو جذب کرنے کا اکیلا باعث نہیں ہو سکتا۔اصل ذریعہ تقویٰ ہی ہے۔متّقی کا معلّم خدا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبیوں پر اُمّیّت غالب ہوتی ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لئے اُمّی بھیجا کہ باوجودیکہ آپ نے نہ کسی مکتب میں تعلیم پائی اور نہ کسی کو استاد بنایا۔پھر آپ نے وہ معارف اور حقائق بیان کئے جو دنیوی علوم کے ماہروں کو دنگ اور حیران کر دیا۔قرآن شریف جیسی پاک، کامل کتاب آپ کے لبوں پر جاری ہوئی۔جس کی فصاحت و بلاغت نے سارے عرب کو خاموش کرا دیا۔وہ کیا بات تھی جس کے سبب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علوم میں سب سے بڑھ گئے۔وہ تقویٰ ہی تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مطہر زندگی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ قرآن شریف جیسی کتاب وہ لائے جس کے علوم نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔