ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 371

وہ خود بھی نفس کی ہوا میں مبتلا ہوتے ہیں اور یوں رونا کچھ فائدہ نہیں رکھتا۔آنسو کا ایک قطرہ بھی دوزخ کو حرام کردیتا ہے ہاں اگر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت اور اس کی خشیت کا غلبہ دل پر ہو اور اس میں ایک رقّت اور گدازش پیدا ہوکر خدا کے لئے ایک قطرہ بھی آنکھ سے نکلے تو وہ یقیناً دوزخ کو حرام کردیتا ہے۔پس انسان اس سے دھوکا نہ کھائے کہ مَیں بہت روتا ہوں۔اس کا فائدہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ آنکھ دُکھنے آجائے گی اور یوں امراضِ چشم میں مبتلا ہوجائے گا۔مَیں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا کے حضور اس کی خشیت سے متاثر ہوکر رونا دوزخ کو حرام کردیتا ہے لیکن یہ گریہ و بکا نصیب نہیں ہوتا جب تک کہ خدا کو خدا اور اس کے رسول کو رسول اور اس کی سچی کتاب پر اطلاع نہ ہو نہ صرف اطلاع بلکہ ایمان۔طبیب جیسے ایک مریض کو جُلاب دیتا ہے اور اس کو ہلکے ہلکے دست آتے ہیں وہ مرض کو ضائع نہیں کرتے جب تک کہ جگری دست نہ آویں۔وہ اپنے ساتھ تمام مواد ردّیہ اور فاسدہ کو لے کر نکلتے ہیں اور ہر قسم کی عفونتیں اور زہریں جنہوں نے مریض کو اندر اندر ہی مضمحل اور مضطرب کر رکھا تھا اُس کے ساتھ نکل جاتے ہیں اور اُس کو شفا ہوتی ہے۔اسی طرح پر جگری گریہ و بکا آستانہٴ الوہیت پر ہر ایک قسم کی نفسانی گندگیوں اور مُفسد مواد کو لے کر نکل جاتا ہے اور اس کو پاک و صاف بنا دیتا ہے۔اہل اللہ کا ایک آنسو جو تَوْبَۃُ النّصوح کے وقت نکلتا ہے ہوا و ہوس کے بندے اور ریاکاری اور ظلمتوں کے گرفتار کے ایک دریا بہا دینے سے افضل اور اعلیٰ ہے کیونکہ وہ خدا کے لئے ہے اور یہ خَلق کے لئے یا اپنے نفس کے واسطے۔اِس بات کو کبھی اپنے دل سے محو نہ کرو کہ خدا تعالیٰ کے حضور اخلاص اور راستبازی کی قدر ہے۔تکلّف اور بناوٹ اُس کے حضور کچھ کام نہیں دے سکتی۔اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کے ذرائع اب اگر یہ سوال ہو کہ پھر اس درجہ کے حصول کے لئے کیا کیا جائے اور قرآن کریم نے