ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 370

اس فن میں ماہر اور موجد انگریزوں کو جو قسم قسم کے باجے اور گانے کے سامان نکالتے ہیں ایسی ٹھوکر لگی کہ وہ خدا کے بالکل منکر یا تثلیث کے قائل ہو گئے باوجودیکہ دنیوی امور میں ایجادات و اختراعات میں ان کی عقلیں ترقی پذیر سمجھی جاتی ہیں۔پھر اس پر اور بھی غور کرو اور سوچو کہ اگر یہی معرفت کا ذریعہ تھا تو تھیٹروں میں ناچنے والے اور تمام ناچنے گانے والے پھر اعلیٰ درجہ کے صاحب دل اور صاحب کمال ماننے پڑیں گے۔افسوس ان لوگوں کو خبر ہی نہیں کہ خدا کی معرفت ہوتی کیا ہے؟ اور انسانی کمال نام کس کا ہے؟ وہ شیطانی حصہ کی شناخت نہیں کر سکے۔رقّت اور گریہ و بکا انہوں نے صرف چند قطرے آنسوؤں کے بہا لینا اور دو تین چیخیں مار دینا ہی روح کی تسلی اور اطمینان کا موجب سمجھ رکھا ہے۔بسا اوقات انسان ناول پڑھتا ہے۔جب اس میں کسی درد ناک حصہ پر پہنچتا ہے باوصفیکہ جانتا ہے کہ یہ ایک فرضی کہانی اور جھوٹا قصہ ہے لیکن پھر بھی وہ ضبط نہیں کرسکتا اور بعض دفعہ چیخیں مار مار کر رو پڑتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ محض رونا اور چلّانا بھی اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔میں نے سنا ہے کہ ملوک چغتائیہ کے عہد سلطنت میں بعض لوگ ایسے ہوتے تھے جو شرط لگا کر یقیناً رلا دیتے تھے اور ہنسا دیتے تھے اور اب تو صریح یہ بات موجود ہے کہ طرح طرح کے ناول موجود ہیں۔بعض ایسے ہیں کہ اُن کو پڑھ کر بے اختیار ہنسی آتی ہے اور بعض ایسے ہیں کہ ان کو پڑھ کر دل بے اختیار ہو کر درد مند ہو جاتا ہے حالانکہ ان کو یقیناً بناوٹی قصے اور فرضی کہانیاں جانتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ انسان دھوکا کھاتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان نفسانی اغراض اور روحانی مطالب میں تمیز نہیں کرتا۔جس قدر لوگ دنیا میں ہیں ان میں سے ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو علامات حقیقیہ سے بے نصیب ہیں۔ان کے منہ سے معارف اور حقائق نہیں نکلتے پھر رلا دیتے ہیں۔اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ وہ حقائق اور معارف سے بہرہ ور ہیں جو عبودیت کے رنگ سے رنگین ہو کر الوہیت کے عظمت و جلال سے خائف اور ترساں ہو کر بولتے ہیں بلکہ اس کی تہہ میں وہی بات ہوتی ہے جو میں نے ابھی ناولوں اور کہانیوں کے متعلق بیان کی ہے۔