ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 372

اس درجہ پر پہنچنے کا کیا ذریعہ بتایا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے لئے دو باتیں بطور اُصول کے رکھی ہیں۔اوّل یہ کہ دعا کرو۔یہ سچی بات ہے خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا (النساء:۲۹) انسان کمزور مخلوق ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم کے بدوں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔اس کا وجود اور اس کی پرورش اور بقا کے سامان سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے فضل پر موقوف ہیں۔احمق ہے وہ انسان جو اپنی عقل و دانش یا اپنے مال و دولت پر ناز کرتا ہے کیونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے۔وہ کہاں سے لایا؟ اور دعا کے لئے یہ ضروری بات ہے کہ انسان اپنے ضُعف اور کمزوری کا پورا خیال اور تصور کرے۔جوں جوں وہ اپنی کمزوری پر غور کرے گا اسی قدر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج پائے گا۔اور اس طرح پر دعا کے لئے اس کے اندر ایک جوش پیدا ہوگا۔جیسے انسان جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور دکھ یا تنگی محسوس کرتا ہے تو بڑے زور کے ساتھ پکارتا اور چلّاتا ہے اور دوسرے سے مدد مانگتا ہے۔اسی طرح اگر وہ اپنی کمزوریوں اور لغزشوں پر غور کرے گا اور اپنے آپ کو ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج پائے گا تو اس کی روح پورے جوش اور درد سے بے قرار ہوکر آستانہ الوہیت پر گرتی اور چلّاتی ہے اور یَارَبّ یَارَبّ کہہ کر پکارتی ہے۔غور سے قرآن کریم کو دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ پہلی ہی سورہ میں اللہ تعالیٰ نے دعا کی تعلیم دی ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ (الفاتـحۃ:۶، ۷) دعا تب ہی جامع ہوسکتی ہے کہ وہ تمام منافع اور مفاد کو اپنے اندر رکھتی ہو اور تمام نقصانوں اور مضرتوں سے بچاتی ہو۔پس اس دعا میں تمام بہترین منافع جو ہوسکتے ہیں اور ممکن ہیں وہ اس دعا میں مطلوب ہیں اور بڑی سے بڑی نقصان رساں چیز جو انسان کو ہلاک کردیتی ہے اُس سے بچنے کی دعا ہے۔منعم علیہ گروہ کی چار اقسام میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ منعم علیہ چار قسم کے لوگ ہیں۔اوّل نبی۔دوم صدیق۔سوم شہید۔چہارم صالحین۔پس اس دعا میں گویا ان چاروں گروہوں کے کمالات کی طلب ہے۔نبی نبیوں کا عظیم الشان کمال یہ ہے کہ وہ خدا سے خبریں پاتے ہیں چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے لَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ (الـجن : ۲۸،۲۷) یعنی خدا تعالیٰ کے