ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 27

جو اتقا میں لازمی ہے۔اس حالت اتقا کے تقاضے نے متقی سے خدا کے دئیے میں سے کچھ دلوایا۔رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایام وفات میں دریافت فرمایا کہ گھر میں کچھ ہے؟ معلوم ہوا کہ ایک دینار تھا۔فرمایا کہ یہ سیرت یگانگت سے بعید ہے کہ ایک چیز بھی اپنے پاس رکھی جاوے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتقا کے درجہ سے گزر کر صلاحیت تک پہنچ چکے تھے اس لئے مِمَّا ان کی شان میں نہ آیا کیونکہ وہ اندھا ہے جس نے کچھ اپنے پاس رکھا اور کچھ خدا کو دیا لیکن یہ لازمۂ متقی تھا کیونکہ خدا کے راہ دینے میں بھی اسے نفس کے ساتھ جنگ تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کچھ دیا اور کچھ رکھا۔وہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب خدا کو دیا اور اپنے لئے کچھ نہ رکھا۔جیسے دھرم مہوتسو کے مضمون میں انسان کی تین حالتیں ذکر کی گئی ہیں جو انسان پر ابتدا سے انتہا تک وارد ہوتی ہیں اسی طرح یہاں بھی قرآن نے جو انسان کو تمام مراحـل ترقی کے طے کرانے آیا اتقا سے شروع کیا۔یہ ایک تکلّف کا راستہ ہے۔یہ ایک خطرناک میدان ہے۔اس کے ہاتھ میں تلوار ہے اور مقابل بھی تلوار ہے۔اگر بچ گیا تو نجات پا گیا وَ اِلَّا اَسْفَلَ السَّافِلِیْنَ میں پڑ گیا۔چنانچہ یہاں متقی کی صفات میں یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ ہم دیتے ہیں اسے سب کا سب خرچ کر دیتا ہے متقی میں ابھی اس قدر ایمانی طاقت نہیں جو نبی کی شان ہوتی ہے کہ وہ ہمارے ہادیٔ کامل کی طرح کُل کا کُل دیا ہوا خدا کا خدا کو دے دے۔اسی لئے پہلے مختصر سا ٹیکس لگایا گیا تا کہ چاشنی چکھ کر زیادہ کے لئے طیار ہو جاوے۔رزق وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ (البقرۃ:۴) رزق سے مراد صرف مال نہیں بلکہ جو کچھ ان کو عطا ہوا۔علم، حکمت، طبابت۔یہ سب کچھ رزق میں ہی شامل ہے۔اس کو اسی میں سے خدا کی راہ میں بھی خرچ کرنا ہے۔تدریج کے ساتھ تعلیم کی تکمیل انسان نے اس راہ میں بتدریج اور زینہ بزینہ ترقی کرنا ہے۔اگر انجیل کی طرح یہ تعلیم ہوتی کہ گال پر ایک طمانچہ کھا کر دوسرے طمانچہ کے لئے گال آگے رکھ دی جاوے یا سب کچھ دے دیا جاوے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا