ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 26

ہے کہ ثواب اس وقت تک ہے جب تک مجاہدات ہیں اور جب مجاہدات ختم ہوئے تو ثواب ساقط ہو جاتا ہے۔گویا صوم و صلوٰۃ اس وقت تک اعمال ہیں جب تک ایک جدوجہد سے وساوس کا مقابلہ ہے لیکن جب ان میں ایک اعلیٰ درجہ پیدا ہوگیا اور صاحب صوم و صلوٰۃ تقویٰ کے تکلف سے بچ کر صلاحیت سے رنگین ہو گیا تو اب صوم و صلوۃ اعمال نہیں رہے۔اس موقع پر انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا اب نماز معاف ہو جاتی ہے؟ کیونکہ ثواب تو اس وقت تک تھا جس وقت تک تکلف کرنا پڑتا تھا۔سو بات یہ ہے کہ نماز اب عمل نہیں بلکہ ایک انعام ہے۔یہ نماز اس کی ایک غذا ہے، اس کے لئے قرۃ العین ہے۔یہ گویا نقد بہشت ہے۔مقابل میں وہ لوگ جو مجاہدات میں ہیں وہ کُشتی کر رہے ہیں اور یہ نجات پا چکا ہے۔سو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا سلوک جب ختم ہوا تو اس کے مصائب بھی ختم ہو گئے مثلاً ایک مخنث اگر کہے کہ وہ کبھی کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تو وہ کون سی نعمت یا ثواب کا مستحق ہے۔اس میں تو صفت بد نظری ہے ہی نہیں لیکن ایک مرد صاحب رجولیت اگر ایسا کرے تو ثواب پاوے گا۔اسی طرح انسان کو ہزاروں مقامات طے کرنے پڑتے ہیں۔بعض بعض امور میں اس کی مشاقی اس کو قادر کر دیتی ہے۔نفس کے ساتھ اس کی مصالحت ہو گئی اب وہ ایک بہشت میں ہے لیکن وہ پہلا سا ثواب نہیں رہے گا۔وہ ایک تجارت کر چکا ہے جس کا اب وہ نفع اٹھا رہا ہے لیکن پہلا رنگ نہ رہے گا۔انسان میں ایک فعل تکلف سے کرتے کرتے اس میں طبعیت کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ایک شخص جو طبعی طور سے لذّت پاتا ہے وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اس کام سے ہٹایا جاوے۔وہ طبعاً یہاں سے ہٹ نہیں سکتا۔سو اتّقا اور تقویٰ کی حد تک پورا انکشاف نہیں ہوتا۔وہ ایک قسم کا دعویٰ ہے۔انفاق من رزق اللہ اس کے بعد متقی کی شان میں وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ (البقرۃ:۴) آیا ہے۔یہاں متقی کے لئے مِمَّا کا لفظ استعمال کیا کیونکہ اس وقت وہ ایک اَعْـمٰی کی حالت میں ہے اس لئے جو کچھ خدا نے اس کو دیا اس میں سے کچھ خدا کے نام کا دیا۔حق یہ ہے کہ اگر وہ آنکھ رکھتا تو دیکھ لیتا کہ اس کا کچھ بھی نہیں سب خدا کا ہی ہے۔یہ ایک حجاب تھا