ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 28

کہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح تعلیم کے ناممکن التعمیل ہونے کے باعث ثواب سے محروم رہتے۔لیکن قرآن تو حسب فطرت انسانی آہستہ آہستہ ترقی کراتا ہے۔انجیل کی مثال تو اس لڑکے کی ہے جو مکتب میں داخـل ہوتے ہی بڑی مشکل مکتب کی کتاب پڑھنے کے لئے مجبور کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ حکیم ہے۔اس کی حکمت کا یہی تقاضا ہونا چاہیے تھا کہ تدریج کے ساتھ تعلیم کی تکمیل ہو۔اس کے بعد متقی کے لئے فرمایا وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ (البقرۃ:۵) یعنی متقی وہ ہوتے ہیں جو پہلے نازل شدہ کتب پر اور تجھ پر جو کتاب نازل ہوئی اس پر اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔یہ امر بھی تکلف سے خالی نہیں۔ابھی تک ایمان ایک محجوبیت کے رنگ میں ہے۔متقی کی آنکھیں معرفت اور بصیرت کی نہیں۔اس نے تقویٰ سے شیطان کا مقابلہ کر کے ابھی ایک بات کو مان لیا ہے۔یہی حال اس وقت ہماری جماعت کا ہے۔انہوں نے بھی تقویٰ سے مانا تو ہے اور ابھی وہ نہیں جانتے کہ یہ جماعت کہاں تک نشوونما الٰہی ہاتھوں سے پانے والی ہے۔سو یہ ایک ایمان ہے جو بالآخر فائدہ رساں ہوگا۔یقین کا لفظ عام طور پر جب استعمال ہو تو اس سے مراد اس کا ادنیٰ درجہ ہوتا ہے یعنی علم کے تین مدارج میں سے ادنیٰ درجہ کا علم یعنی علم الیقین۔اس درجہ پر اتقا والا ہوتا ہے مگر بعد اس کے عین الیقین اور حق الیقین کا مرتبہ بھی تقویٰ کے مراحل طے کرنے کے بعد حاصل کر لیتا ہے۔تقویٰ کوئی چھوٹی چیز نہیں۔اس کے ذریعہ ان تمام شیطانوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے جو انسان کی ہر ایک اندرونی طاقت و قوت پر غلبہ پائے ہوئے ہیں۔یہ تمام قوتیں نفس امارہ کی حالت میں انسان کے اندر شیطان ہیں اگر اصلاح نہ پائیں گی تو انسان کو غلام کر لیں گی۔علم و عقل ہی برے طور پر استعمال ہو کر شیطان ہو جاتے ہیں۔متقی کا کام ان کی اور ایسا ہی اور کل قویٰ کی تعدیل کرنا ہے۔سچا مذہب انسانی قویٰ کا مربی ہوتا ہے ایسا ہی جو لوگ انتقام، غضب یا نکاح کو ہر حال میں بُرا جانتے ہیں وہ بھی صحیفۂ قدرت کے مخالف ہیں اور قویٰ انسانی کا مقابلہ کرتے ہیں۔سچا مذہب وہی ہے جو انسانی قویٰ کا مربی ہو نہ کہ