ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 329

اسی کی طرف اشارہ ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں۔اگرچہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ پر تقدم ہے لیکن پھر بھی اگر غور کیا جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت نے سبقت کی ہوئی ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ بھی کسی قوت نے کہلوایا ہے اور وہ قوت جو پوشیدہ ہی پوشیدہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا اقرار کراتی ہے کہاں سے آئی؟ کیا خدا تعالیٰ نے ہی وہ عطا نہیں فرمائی ہے؟ بے شک وہ خدا تعالیٰ کا ہی عطیہ ہے جو اس نے محض رحمانیت سے عطا فرمائی ہے۔اس کی تحریک اور توفیق سے یہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ بھی کہتا ہے۔اس پہلو سے اگر غور کریں تو اس کو تأخّر ہے اور دوسرے پہلو سے اس کو تقدم ہے۔یعنی جب یہ قوت اس کو اس بات کی طرف لاتی ہے تو یہ تأخّر ہو گیا اور بصورت اوّل تقدم۔اسی طرح پر سلسلہ نبوت کی فلاسفی کا خلاصہ یا مفہوم ہے۔۷۹؎ لوازمِ نبوت یہ تو ممکن ہے کہ ہزاروں ہزار انسان ملہم ہونے کا دعویٰ کریں اور اثبات نبوت اور کلام الٰہی کی حجت قائم کرنے کے واسطے یہ ضروری اَمر ہے مگر اَمرِ نبوت میں مقصود بالذّات ایک اور اَمر ہوتا ہے جو خاص نبیوں سے مخصوص ہوتا ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی شَے آتی ہے تو اس کے لوازم اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہ وہ لوازم سے الگ ہو۔مثلاً جب کھانا آئے گا تو اس کے لوازم ساتھ ہی ہوں گے۔ہر قسم کے برتن، پانی یہاں تک کہ خلال بھی دے دیں گے۔اسی طرح پر لوازماتِ نبوت اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور منجملہ ان کے ایک یہ بھی ہے کہ کلام نفسانی کا سلسلہ بالکل ختم ہو جاتا ہے اور یہ اَمر اصل کیفیت کے لوازم میں سے ہے اور اس کے آثار و علامات کی دلیل وہ پیشگوئیاں ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ انہیں عطا کرتا ہے۔یہ بھی یاد رکھو کہ نبیوں کا ایک اور نام آسمان پر ہوتا ہے جس سے دوسرے لوگ آشنا بھی نہیں ہوتے اور بعض وقت جب وہ آسمانی نام دنیا میں پیش ہوتا ہے تو لوگوں کو ٹھوکر لگ جاتی ہے۔مثلاً میرے ہی معاملہ میں خدا نے میرا نام مسیح ابن مریم بھی رکھا ہے۔بعض نادان اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارا نام تو غلام احمد ہے وہ اس راز کو سمجھ نہیں سکتے۔یہ اسرارِ نبوت میں سے ایک بات ہے۔غرض جب دونو قسم کے جھوٹے مکالمے ختم ہو جاتے ہیں تو پھر دل بولتا ہے۔ہر وقت بولتا رہتا ہے۔