ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 330

حرکت کرتا ہے تب بھی اس سے آواز آتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہزاروں ہزار لوگ اس کے پاس اَور اَور قسم کی باتوں میں مشغول ہوں یہ اپنے اس سلسلہ میں لذّت پاتا ہے اور اپنے محبوب سے کلام کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔یہی وجہ ان کی جمعیّت قلب کی ہوتی ہے۔کوئی شوروشر اس کو پراگندہ نہیں کر سکتا۔عام طور پر ایک عاشق چاہتا ہے کہ وہ اپنے معشوق اور محبوب کے حسن و جمال پر پوری اطلاع پالے اور ہر وقت اس سے کلام کریں مگر یہ سب کچھ نہیں ہے اور یہ خواہشیں ذلیل ہیں مگر خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے والا اور اس کے عشق میں گمشدہ قوم نبیوں کی ان جھوٹے اور فانی عاشقوں کے عشق سے کہیں بڑھ کر اپنے اندر جوش رکھتے ہیں کیونکہ وہ خدا وہ ہے جو جھکنے والوں کی طرف جھکتا ہے یہاں تک کہ اس سے زیادہ توجہ کرتا ہے۔خدا کی طرف آنے والا اگر معمولی چال سے چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔پس ایسے خدا کی طرف جس کی توجہ ہو جاوے اور وہ اس کی محبت میں کھویا جاوے وہ محبت اور عشق الٰہی کی آگ ان امانی اور نفسانی خیالات کو جلا دیتی ہے پھر ان کے اندر روح ناطق ہو جاتی ہے اور پاک نُطق جو ادھر سے شروع ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا نُطق ہوتا ہے۔دوسرے رنگ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ دعا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو جواب دیتا ہے۔پس یہ ایک کمال نبوت ہے اور اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں رکھا گیا ہے۔اس لیے جب انسان اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ:۶، ۷) کی دعا مانگے تو اس کے ساتھ ہی یہ امر پیش نظر رہے کہ اس کمالِ نبوت کو حاصل کرے۔مقامِ صدّیقیت پھر دوسرا کمال صدیقوں کا کمال ہے۔صدیق مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جو بالکل راستبازی میں فنا شدہ ہو اور کمال درجہ کا پابندِ راستبازی اور عاشق صادق ہو اس وقت وہ صدیق کہلاتا ہے۔یہ ایک ایسا مقام ہے جب ایک شخص اس درجہ پر پہنچتا ہے تو وہ ہر قسم کی صداقتوں اور راستبازیوں کا مجموعہ اور ان کو کشش کرنے والا ہو جاتا ہے جس طرح پر آتشی شیشہ سورج کی شعاعوں کو اپنے اوپر جمع کر لیتا ہے اسی طرح پر صدیق کمالات صداقت کا جذب کرنے والا ہوتا ہے۔بقول شخصے زر زر کشد در جہاں گنج گنج # جب ایک شَے بہت بڑا ذخیرہ پیدا کر لیتی ہے تو اسی قسم کی اشیاء کو جذب کرنے کی قوت اس میں