ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 328

بھی لذّت بخش ہے۔مگر وہ الفاظ کہاں سے لاؤں جس میں مَیں اس کو ظاہر کر سکوں۔کیا وجہ ہے کہ انبیاءؑ بیویاں اور بچے بھی رکھتے ہیں؟ بعض نادان لوگوں کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ جب کہ انبیاء علیہم السلام ایسے فنافی اللہ ہوتے ہیں اور دنیا اور اس کی لذّتوں سے دور بھاگتے ہیں پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ بیویاں اور بچے بھی رکھتے ہیں؟ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ ایک شخص تو ان باتوں کا اسیر اور ان فانی لذّتوں میں فنا ہوجاتا ہے مگر یہ گروہ ان باتوں سے پاک ہوتا ہے۔یہ چیزیں ان کے لئے محض خادم کے طور پر ہوتی ہیں اور اس کے علاوہ انبیاء علیہم السلام ہر قسم کی اصلاح کے لئے آتے ہیں۔پس اگر وہ بیوی بچے نہ رکھتے ہوں تو اس پہلو میں تکمیل اصلاح کیون کر ہوتی۔اسی لئے میں کہتا ہوں کہ عیسائی لوگ معاشرت کے متعلق مسیحؑ کا کیا نمونہ پیش کر سکتے ہیں؟ کچھ بھی نہیں۔جب وہ اس راہ سے ناواقف ہیں اور ان مدارج سے بے خبر ہیں وہ کیا اصلاح کریں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی کمال ہے کہ ہر پہلو میں آپ کا نمونہ کامل ہے۔دنیا اور اس کی چیزیں انبیاء علیہم السلام پر کوئی اثر نہیں ڈالتی ہیں وہ فانی لذّتوں کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے بلکہ ان کا دل خدا تعالیٰ کی طرف دریا کی ایک تیز دھاری کی طرح جو پہاڑ سے گرتی ہے بہتا ہے اور اس کے رَو میں سب خس و خاشاک بہہ جاتا ہے۔غرض انبیا علیہم السلام ان چیزوں کے غلام نہیں ہوتے بلکہ یہ چیزیں ان کے لئے بطور خادم ہوتی ہیں اور ان کے اعلیٰ درجہ کے اخلاقی کمالات کا نمونہ ان کے اس ذکر اور ذوق میں جو خدا تعالیٰ کے تصور اور محویت میں انہیں ملتا ہے ان سے کچھ حرج پیدا نہیں ہوتا۔وہ کچھ ایسے محو اور فنا ہوتے ہیں کہ دنیا سے بالکل الگ ہوتے ہیں۔جب اس قسم کی ربودگی ہوتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے آوازیں آنے لگتی ہیں اور مکالمات ہوتے ہیں۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جو جذب کی قوت لے کر نکلتی ہے وہ دوسرے کو جذب کرتی ہے۔اس جذب میں اس قدر قوت ہوتی ہے کہ دنیا اور مافیہا کی ساری باتیں اس میں بھسم ہو جاتی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور فیض کو اپنی طرف کھینچنے لگتی ہے اور اسی سلسلہ کو باقی تمام سلسلوں پر تقدم اور فوق ہو جاتا ہے لیکن اس کے لئے مجاہدہ صحیحہ کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر یہ راہ نہیں کھلتی جیسا کہ فرمایا ہے وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) اور