ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 327

ہوں اور تیری رضا کا طالب ہوں۔مجھ پر ایسا فضل کر کہ میں اس نقطہ اور مقام تک پہنچ جاؤں جو تیری رضا کا مقام ہے۔مجھے ایسے اعمال کی توفیق دے جو تیری نظر میں پسندیدہ ہوں۔دنیا کی آنکھ کھول کہ وہ تجھے پہچانے اور تیرے آستانے پر گرے۔یہ اس کے خیالات ہوتے ہیں اور یہ اس کی آرزوئیں۔اس میں ایسا محو اور فنا ہوتا ہے کہ دوسرا اس کو شناخت نہیں کر سکتا۔وہ اس سلسلہ کو ذوق کے ساتھ دراز کرتا ہے اور پھر اس میں اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اس کا دل پگھل جاتا ہے اور اس کی روح بہہ نکلتی ہے۔وہ پورے زور اور طاقت کے ساتھ آستانہ الوہیت پر گرتی اور اَنْتَ رَبِّیْ، اَنْتَ رَبِّیْ کہہ کر پکارتی ہے۔تب اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم جوش میں آتا ہے اور وہ اس کو مخاطب کرتا اور اپنے کلام سے اس کو جواب دیتا ہے۔یہ ایسا لذیذ سلسلہ ہے کہ ہر شخص اس کو سمجھ نہیں سکتا اور یہ لذّت ایسی ہے کہ الفاظ اس کو ادا نہیں کر سکتے۔پس وہ بار بار مستسقی کی طرح باب ربوبیت ہی کو کھٹکاتا رہتا ہے اور وہاں ہی اپنے لئے راحت و آرام پاتا ہے۔وہ دنیا میں ہوتا ہے لیکن دنیا سے الگ ہوتا ہے۔وہ دنیا کی کسی چیز کا آرزو مند نہیں ہوتا لیکن دنیا اس کی خادم ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس کے قدموں پر دنیا کو لا ڈالتا ہے۔یہ ہے مختصر حقیقت نبوت کے مقام کی۔یہاں کلام نفسی کے دونوں سلسلے بھسم ہو جاتے ہیں اور تیسرا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔جس کا مبدء اور منتہا خدا ہی ہوتا ہے۔اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے کلام کو جذب کرتا ہے جس میں اس قسم کے دُخان اور اَضْغَاث اَحْلَام نہیں ہوتے جو نفسِ کلام میں ہوتے ہیں۔بلکہ وہ دنیا سے انقطاع کلّی کئے ہوئے ہوتا ہے۔جیسے ایک نفسانی خواہشوں کا اسیر اعلیٰ درجہ کا محبوبہ سے تعلق پیدا کر کے ہمہ گوش ہو کر تصور کرتا ہے اور اسے نفسانی لذّات کا معراج پاتا ہے اور قطعاً نہیں چاہتے کہ کسی دوسرے کو ملیں۔اسی طرح پر نبی خدا تعالیٰ سے اپنے تعلقات کو یہاں تک پہنچاتا ہے کہ وہ اس تنہائی اور خلوت میں کسی دوسرے کا دخل ہرگز پسند نہیں کرتے۔وہ اپنے محبوب سے ہم کلام ہوتے ہیں اور اسی میں لذّت و راحت پاتے ہیں۔وہ ایک دم کے لئے بھی اس خلوت کو چھوڑنا پسند نہیں کرتے۔لیکن خدا تعالیٰ انہیں دنیا کے سامنے لاتا ہے تاکہ وہ دنیا کی اصلاح کریں اور خدا نما آئینہ ٹھہریں۔نبی طبعاً ایک لذّت اور کیفیت پاتا ہے اور اسے خدا تعالیٰ ہی میں چاہتا ہے۔اس سے زیادہ مَیں اس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا اگرچہ دل اس لذّت سے بھرا ہوا ہے اگرچہ اس ذکر کی درازی اور