ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 326

کیا؟ نفع و نقصان کا پہنچانا یہ خدا تعالیٰ کے قبضہ و اختیار میں ہے۔کوئی شخص کسی کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔سعدی نے گلستان میں ایک حکایت لکھی ہے کہ نوشیرواں کے پاس کوئی شخص خوشخبری لے کر گیا کہ تیرا فلاں دشمن مارا گیا ہے اور اس کا ملک اور قلعہ ہمارے قبضہ میں آگیا ہے۔نوشیرواں نے اس کا کیا اچھا جواب دیا۔مرا بمرگ عدو جائے شادمانی نیست کہ زندگانی مانیز جاودانی نیست # پس آدمی غور کرے کہ اس قسم کے منصوبوں اور ادھیڑبن سے کیا فائدہ اور کیا خوشی۔یہ سلسلہ تو بہت ہی خطرناک ہے اور اس کاعلاج ہے توبہ، استغفار، لاحول اور خدا کی کتاب کا مطالعہ، بیکاری اور بے شغلی میں اس قسم کا سلسلہ بہت لنبا ہوتا ہے۔دوسری قسم کلام نفس کی اَمَانی سلسلے کو لنبا کرتے رہنا ہے۔یہ سلسلہ بھی چونکہ بےجا خواہشوں کو پیدا کرتا ہے اور طمع، حسد، خودغرضی کے امراض اس سے پیدا ہوتے ہیں۔اس لیے جونہی یہ سلسلہ پیدا ہو اس کی صف فوراً لپیٹ دو۔میں نے یہ تقسیمِ کلامِ نفس کی ہے اور یہ دونوں انجام کار انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں لیکن نبی ان دونوں قسم کے سلسلہ کلام سے پاک ہوتا ہے۔مقامِ نبوت کی حقیقت نبوت کیا ہے؟ یہ ایک جوہر خدا داد ہے۔اگر کسب سے ہوتا تو سب نبی ہو جاتے۔ان کی فطرت ہی اس قسم کی نہیں ہوتی کہ وہ ان بے جا سلسلہ کلام میں مبتلا ہوں۔وہ نفسی کلام کرتے ہی نہیں۔دوسرے لوگوں میں تو یہ حال ہوتا ہے کہ وہ ان سلسلوں میں کچھ ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ خدا کا خانہ ہی خالی رہتا ہے لیکن نبی ان دونوں سلسلوں سے الگ ہو کر خدا میں کچھ ایسے گم ہوتے ہیں اور اس کے مخاطبہ مکالمہ میں ایسے محو ہوتے ہیں کہ ان سلسلوں کے لئے ان کے دل و دماغ میں سمائی اور گنجائش ہی نہیں ہوتی بلکہ خدا ہی کا سلسلہ کلام رہ جاتا ہے۔چونکہ وہی حصہ باقی ہوتا ہے اس لئے خدا ان سے کلام کرتا ہے اور وہ خدا کو مخاطب کرتے رہتے ہیں۔تنہائی اور بے کاری میں بھی جب ایسے خیالات کا سلسلہ ایک انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے اس وقت اگر نبی کو بھی ویسی ہی حالت میں دیکھو تو شاید غلطی اور ناواقفی سے یہ سمجھ لو کہ اب اس کا سلسلہ تو خدا سے کلام کا نہ ہوگا مگر نہیں وہ ہر وقت خدا ہی سے باتیں کرتا ہے کہ اے خدا میں تجھ سے پیار کرتا