ملفوظات (جلد 1) — Page 325
لیکن درحقیقت وہ خاموش نہیں ہوتا۔اس کا سلسلہ کلام اپنے نفس سے شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ بہت ہی لنبا ہوتا ہے اور شیطانی رنگ میں اسے خود لنبا کرتا ہے اور بے شرمی سے اسے لنبا ہونے دیتا ہے۔یہ سلسلہ کلام کبھی خیالی فسق کے رنگ میں ہوتا ہے اور کبھی بے ہودہ اور جھوٹی تمناؤں کے رنگ میں اور اس سے وہ کبھی فارغ نہیں رہتا جب تک کہ اس سفلی زندگی کو چھوڑ نہ دے۔یہ بھی یاد رکھو کہ اس قسم کے خطرات اور خیالات کا سلسلہ جو لنبا ہونے نہیں دیتا اور ایک معمولی خیال کی طرح آکر دل سے محو ہو جاتے ہیں وہ معاف ہیں۔لیکن جب اس سلسلہ کو لنبا کرتا ہے اور اس پر عزیمت کرتا ہے تو وہ گناہ ہیں اور ان کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔۷۸؎ جب ان خیالات کو جو انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں وہ دور کرتا ہے اور ان کو لنبا ہونے نہیں دیتا تو کچھ شک نہیں کہ وہ معافی کے قابل ہیں لیکن جب اس کے سلسلہ کی درازی میں ایک لذّت پاتا ہے اور اس کو بڑھاتا جاتا ہے پھر وہ قابلِ مؤاخذہ ہو جاتے ہیں کیونکہ ان میں عزیمت شامل ہو جاتی ہے۔جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا ہے اس بات کو خوب یاد رکھو کہ کلام نفسی دو قسم کا ہوتا ہے۔کبھی شیطانی جو خیالی فسق و فجور کے سلسلہ میں چلا جاتا ہے اور آرزوؤں کا ایک لنبا سلسلہ ہوتا ہے۔جب تک ان دونوں سلسلوں میں انسان پھنسا ہوا ہے شیطانی دخل کا اسے اندیشہ ہے اور ممکن ہے کہ وہ نقصان اٹھاوے اور شیطان اسے زخمی کرے۔مثلاً کبھی کوئی منصوبہ ہی باندھتا ہے کہ فلاں شخص میری فلاں غرض اور مقصد میں بڑا مخل ہے اس کو مارا جاوے۔اس نے مجھے تو کہا ہے اس کا بدلہ لیا جاوے۔اس کی ناک کاٹنی چاہیے اس قسم کے منصوبے اور ادھیڑ بن میں لگا رہتا ہے۔یہ مریض سخت خطرناک حالت میں ہے۔وہ نہیں سمجھتا ہے کہ نفس کا مَیں کیا نقصان کر رہا ہوں اور اس سے میری اخلاقی اور روحانی قوتوں پر کس قسم کا برا اثر پڑرہا ہے۔اس قسم کے خیالات سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔جب کبھی کوئی ایسا بیہودہ سلسلہ شروع ہو فوراً اس کے دفع کرنے کی کوشش کرو۔استغفار پڑھو۔لاحول کے ذریعہ خدا سے مدد اور توفیق چاہو اور خدا تعالیٰ کی کتاب کے پڑھنے میں اپنے آپ کو مصروف کر دو اور یہ سمجھ لو کہ اس سلسلہ سے فائدہ کچھ نہیں نقصان ہی نقصان ہے۔اگر کوئی دشمن مَر بھی جاوے تو کیا اور زندہ رہے تو