ملفوظات (جلد 1) — Page 324
لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب:۲۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو ایک ذرّہ بھر بھی اِدھر یا اُدھر ہونے کی کوشش نہ کرو۔جماعت احمدیہ کے قیام کا مقصد غرض منعم علیہم لوگوں میں جو کمالات ہیں اور صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ:۷) میں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ان کو حاصل کرنا ہر انسان کا اصل مقصد ہے اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کے قائم کرنے سے یہی چاہا ہے کہ وہ ایسی جماعت تیار کرے جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی تاکہ اس آخری زمانہ میں یہ جماعت قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عظمت پر بطور گواہ ٹھہرے۔مقامِ نبوت ان کمالات میں سے جو منعم علیہم کو دیئے جاتے ہیں پہلا کمال نبوت کا کمال ہے جو بہت ہی اعلیٰ مقام پر واقع ہے۔ہمیں افسوس ہے کہ وہ الفاظ نہیں ملتے جن میں اس کمال کی حقیقت بیان کر سکیں۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر کوئی چیز اعلیٰ ہو اس کے بیان کرنے کے واسطے اسی قدر الفاظ کمزور ہوتے ہیں اور نبوت تو ایسا مقام ہے کہ انسان کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی درجہ اور مرتبہ نہیں ہے تو پھر یہ کیوں کر بیان ہو سکے۔مختصر اور ناکافی طور پر ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ انسان جب سفلی زندگی کو چھوڑ دیتا ہے اور بالکل سانپ کی کینچلی کی طرح اس زندگی سے الگ ہو جاتا ہے اس وقت اس کی حالت اور ہو جاتی ہے۔وہ بظاہر اسی زمین پر چلتا پھرتا کھاتا پیتا ہے اس پر قانون قدرت کا ویسا ہی اثر ہوتا ہے جیسا دوسرے لوگوں پر لیکن باوجود اس کے بھی وہ اس دنیا سے الگ ہوتا ہے۔وہ ترقی کرتے کرتے اس مقام پر جا پہنچتا ہے جو نقطۂ نبوت کہلاتا ہے اور جہاں وہ خدا تعالیٰ سے مکالمہ کرتا ہے۔یہ مکالمہ یوں شروع ہوتا ہے کہ جب وہ نفس اور اس کے تعلقات سے الگ ہو جاتا ہے تو پھر اس کا تعلق اللہ تعالیٰ ہی سے ہوتا ہے اور اسی سے وہ مکالمہ کرتا ہے۔کلامِ نفس انسان کی حالت ایسی واقع ہوئی ہے کہ یہ کبھی نکما اور بے کار نہیں رہتا ہے اور نفس کلام سے بھی کبھی فارغ نہیں ہوتا ہے۔نفس اور شیطان سے ہی اس کا مکالمہ شروع رہتا ہے اگر کوئی اور بات کرنے والا نہ ہو۔بعض اوقات لوگ دیکھتے ہیں کہ وہ بالکل خاموش رہتا ہے