ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 323

امر بطریق اجمال بیان کیا جاتا ہے اور دوسری جگہ وہی امر کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔گویا دوسرا پہلے کی تفسیر ہے۔پس اس جگہ جو یہ فرمایا صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ:۷) تو یہ بطریق اجمال ہے لیکن دوسرے مقام پر منعم علیہم کی خود ہی تفسیر کر دی ہے مِنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيْنَ (النسآء:۷۰) منعم علیہ چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔نبی، صدیق، شہدا اور صالح۔انبیاء علیہم السلام میں چاروں شانیں جمع ہوتی ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ کمال ہے۔ہر ایک انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کمالات کے حاصل کرنے کے لیے جہاں مجاہدہ صحیحہ کی ضرورت ہے اس طریق پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھایا ہے کوشش کرے۔آنحضرت کی راہ کو ہر گز نہ چھوڑو میں یہ بھی تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنے تراشے ہوئے وظائف اور اَوراد کے ذریعہ سے ان کمالات کو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن میں تمہیں کہتا ہوں کہ جو طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہیں کیا وہ محض فضول ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم سے بڑھ کر منعم علیہ کی راہ کا سچا تجربہ کار اور کون ہو سکتا ہے۔جن پر نبوّت کے بھی سارے کمالات ختم ہو گئے۔آپ نے جو راہ اختیار کیا ہے وہ بہت ہی صحیح اور اقرب ہے۔اس راہ کو چھوڑ کر اور ایجاد کرنا، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی خوش کرنے والا معلوم ہوتا ہو میری رائے میں ہلاکت ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اتباع سے خدا ملتا ہے اور آپ کے اتباع کو چھوڑ کر خواہ کوئی ساری عمر ٹکریں مارتا رہے گوہر مقصود اس کے ہاتھ میں نہیں آسکتا۔چنانچہ سعدی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی ضرورت بتاتا ہے۔بزہد و ورع کوش و صدق و صفا و لیکن میفزائے بر مصطفیٰ # آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کو تو نہ چھوڑو۔میں دیکھتا ہوں کہ قسم قسم کے وظیفے لوگوں نے ایجاد کر لئے ہیں۔الٹے سیدھے لٹکتے ہیں اور جوگیوں کی طرح راہبانہ طریقے اختیار کئے جاتے ہیں لیکن یہ سب بے فائدہ ہیں۔انبیاء علیہم السلام کی یہ سنّت نہیں کہ وہ الٹے سیدھے لٹکتے رہیں یا نفی اثبات کے ذکر کریں اور ارّہ کے ذکر کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اسوۂ حسنہ فرمایا