ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 322

انسانی زندگی کا مقصد غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اس پہلی ہی سورت میں ہمارے لئے کس قدر مبسوط طریق پر فضل کی راہ بتا دی ہے۔اس سورت میں جس کا نام خاتم الکتاب اور اُمّ الکتاب بھی ہے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ انسانی زندگی کا کیا مقصد ہے اور اس کے حصول کی کیا راہ ہے؟ اِيَّاكَ نَعْبُدُ گویا انسانی فطرت کا اصل تقاضا اور منشا ہے اور وہ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتـحۃ:۵) کے بغیر پورا نہیں ہوتا لیکن اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ پر مقدم کر کے یہ بتایا ہے کہ پہلے ضروری ہے کہ جہاں تک انسان کی اپنی طاقت، ہمت اور سمجھ میں ہو خدا تعالیٰ کی رضا مندی کی راہوں کے اختیار کرنے میں سعی اور مجاہدہ کرے اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں سے پورا کام لے اور اس کے بعد پھر خدا تعالیٰ سے اس کی تکمیل اور نتیجہ خیز ہونے کے لیے دعا کرے۔انسانی زندگی کا مقصد اور غرض صراط مستقیم پر چلنا اور اس کی طلب ہے۔جس کو اس سورۃ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ:۶،۷) یا اللہ ہم کو سیدھی راہ دکھا۔ان لوگوں کی اور جن پر تیرا انعام ہوا۔یہ وہ دعا ہے جو ہر وقت، ہر نماز میں اور ہر رکعت میں مانگی جاتی ہے۔اس قدر اس کا تکرار ہی اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔جماعت احمدیہ کا نصب العین ہماری جماعت یاد رکھے کہ یہ معمولی سی بات نہیں ہے اور صرف زبان سے طوطے کی طرح ان الفاظ کا رٹ دینا اصل مقصود نہیں ہے بلکہ یہ انسان کو انسان کامل بنانے کا ایک کارگر اور خطا نہ کرنے والا نسخہ ہے جسے ہر وقت نصب العین رکھنا چاہیے اور تعویذ کی طرح مدنظر رہے۔اس آیت میں چار قسم کے کمالات کے حاصل کرنے کی التجا ہے۔اگر یہ ان چار قسم کے کمالات کو حاصل کرے گا تو گویا دعا مانگنے اور خلق انسانی کے حق کو ادا کرے گا اور ان استعدادوں اور قویٰ کے بھی کام میں لانے کا حق ادا ہو جائے گا جو اس کو دی گئی ہیں۔آیت اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی تفسیر اس بات کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ قرآن شریف کے بعض حصے دوسرے کی تفسیر اور شرح ہیں۔ایک جگہ ایک