ملفوظات (جلد 1) — Page 321
کوئی خدا تعالیٰ کے حضور آیا ہے اور اس نے سچی توبہ کے ساتھ رجوع کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا فضل کیا ہے۔یہ بالکل سچ ہے جو کسی نے کہا ہے عاشق کہ شد کہ یار بحالش نظر نہ کرد اے خواجہ درد نیست وگرنہ طبیب ہست # خدا تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ تم اس کے حضور پاک دل لے کر آجاؤ۔صرف اتنی شرط ہے کہ اس کے مناسب حال اپنے آپ کو بناؤ اور وہ سچی تبدیلی پیدا کرو۔خدا تعالیٰ میں عجیب در عجیب قدرتیں ہیں اور اس میں لا انتہا فضل و برکات ہیں مگر ان کے دیکھنے اور پانے کے لئے محبت کی آنکھ پیدا کرو۔اگر سچی محبت ہو تو خدا تعالیٰ بہت دعائیں سنتا ہے اور تائیدیں کرتا ہے۔لیکن شرط یہی ہے کہ محبت اور اخلاص خدا تعالیٰ سے ہو۔خدا کی محبت اور فضل محبت ایک ایسی شے ہے کہ انسان کی سفلی زندگی کو جلا کر اسے ایک نیا اور مصفّٰی انسان بنا دیتی ہے۔پھر وہ وہ دیکھتا ہے جو پہلے نہیں دیکھتا تھا۔وہ وہ سنتا ہے جو پہلے نہیں سنتا تھا۔غرض خدا تعالیٰ نے جو کچھ مائدہ فضل و کرم کا انسان کے لئے طیار کیا ہے اس کے حاصل کرنے اور فائدہ اٹھانے کے لئے استعدادیں بھی عطا کی ہیں۔اگر وہ استعدادیں تو عطا کرتا لیکن سامان نہ ہوتا تب بھی ایک نقص تھا اور یا سامان تو ہوتا لیکن استعدادیں نہ ہوتیں مگر نہیں، یہ بات نہیں ہے۔استعداد بھی دی اور سامان بھی مہیا کیا۔جس طرح پر ایک طرف روٹی کا سامان ہو دوسری طرف آنکھ، زبان، دانت اور معدہ دے دیا اور جگر اور امعاء کو کام میں لگا دیا اور ان تمام کاموں کا مدار غذا پر رکھ دیا۔اگر اندر ہی کچھ نہ جائے گا تو دل میں خون کہاں سے آئے گا۔کیلوس کہاں سے بنے گا۔اسی طرح پر سب سے اول اس نے یہ فضل کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام ایسا مکمل دین دے کر بھیجا اور آپ کو خاتَم النّبیّینؐ ٹھہرایا اور قرآن شریف ایسی کامل اور خاتم الکتب کتاب عطا فرمائی۔اور اب قیامت تک نہ کوئی کتاب آئے گی اور نہ کوئی نیا نبی شریعت لے کر آئے گا۔پھر جو قویٰ سوچ اور فکر کے ہیں ان سے اگر ہم کام نہ لیں اور خدا تعالیٰ کی طرف قدم نہ اٹھائیں تو کس قدر سُستی اور کاہلی اور ناشکری ہے۔