ملفوظات (جلد 1) — Page 320
وہاں سب کچھ موجود ہے۔چنانچہ اگلی سورت میں اس قبولیت کا اشارہ ہے جہاں فرمایا ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ (البقرۃ:۳) یہ ایسی دعوت ہے کہ دعوت کا سامان پہلے سے طیار ہے۔غرض یہ قویٰ جو انسان کو دیئے گئے ہیں اگر وہ ان سے کام لے تو یقیناً ولی ہو سکتا ہے۔میں یقیناً کہتا ہوں کہ اس اُمت میں بڑی قوت کے لوگ آتے ہیں وہ نور اور صدق اور وفا کے لوگ آتے ہیں۔کوئی شخص اپنے آپ کو محروم نہ سمجھے۔کیا خدا تعالیٰ نے کوئی فہرست شائع کر دی ہے جو یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ہمیں حصہ نہیں ملے گا۔خدا تعالیٰ بڑا کریم ہے۔اس کی کریمی کا بڑا گہرا سمندر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا اور کوئی تلاش کرنے والا اور طلب کرنے والا محروم نہیں رہا ہے۔اس لئے تمہیں چاہیے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعا مانگو اور اس کے فضل کو طلب کرو۔ہر ایک نماز میں دعا کے واسطے کئی موقعے ہیں۔رکوع، قیام، قعدہ، سجدہ وغیرہ۔آٹھ پہروں میں پانچ مرتبہ نماز پڑھنی پڑتی ہے۔فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اس پر ترقی کر کے اشراق اور تہجد کی نمازیں ہیں۔یہ سب دعا ہی کے لئے موقعے ہیں۔نماز کی اصلی غرض اور مغز دعا ہے اصل غرض اور مغز نماز کا دعا ہی ہے اور دعا خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے موافق ہے۔عام طور پر دیکھو کہ جب بچہ روتا دھوتا ہے اور اضطراب ظاہر کرتا ہے تو ماں کس قدر بے قرار ہو کر اس کو دودھ دیتی ہے۔الوہیت اور عبودیت میں اسی قسم کا ایک تعلق ہے جس کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔جب انسان خدا تعالیٰ کے دروازہ پر گرتا ہے اور نہایت عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ گرتا ہے اوراپنے حالات کو پیش کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجات کو مانگتا ہے تو الوہیت کا کرم جوش میں آتا ہے اور اس پر رحم کیا جاتا ہے۔گریہ و زاری خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کا دودھ بھی ایک گریہ کو چاہتا ہے اس لئے اس کے حضور رونے والی آنکھ پیش کرنی چاہیے۔یہ خیال غلط اور باطل ہے جو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور رونے دھونے سے کچھ نہیں ملتا۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی صفات قدرت و تصرف پر ایمان نہیں لاتے ہیں۔اگر وہ حقیقی ایمان پیدا کرتے تو یہ کبھی نہ کہتے۔جب کبھی